تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 18

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸ سورة البقرة ہے۔تو یہی وہ حالت ہے جو مطمئنہ کہلاتی ہے۔غرض يُقِيمُونَ الصَّلوةَ کے یہ معنے ہیں کہ جب تک نفسِ مطمئنہ نہ ہو اسی کشاکش میں لگارہتا ہے کبھی نفس غالب آ جاتا ہے اور کبھی آپ غالب آ جاتا ہے صبح کو اٹھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ٹھنڈا پانی ہے اس کو نہانے کی حاجت ہے پس اگر نفس کی بات مان لیتا ہے تو نماز کو کھو لیتا ہے اور اگر ہمت سے کام لیتا ہے تو اس پر فتح پالیتا ہے۔شکر کی بات ہے کہ ایک مرتبہ خود مجھے ایسی حالت پیش آئی۔سردی کا موسم تھا۔مجھے غسل کی حاجت ہو گئی۔پانی گرم کرنے کے لئے کوئی سامان اس جگہ کا نہ تھا۔ایک پادری کی لکھی ہوئی کتاب میزان الحق میرے پاس تھی۔اُس وقت وہ کام آئی میں نے اُس کو جلا کر پانی گرم کر لیا اور خدا کا شکر کیا۔اس وقت میری سمجھ میں آیا کہ بعض وقت شیطان بھی کام آجاتا ہے۔پھر میں اصل مطلب کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ يُقِيمُونَ الصَّلوة کے یہی معنے ہیں اور اس پر ترقی یہی ہے کہ ایسی حالت سے نجات پا کر مطمئنہ کی حالت میں پہنچ جاوے۔خوب یا درکھو کہ نرا غیب پر ایمان لانے کا انجام خطر ناک ہوتا رہا ہے۔افلاطون جب مرنے لگا تو کہنے لگا کہ میرے لئے بت پر ایک مرغا ہی ذبح کرو۔جالینوس نے کہا میری قبر میں خچر کے پیشاب گاہ کے برابر ایک سوراخ رکھ دینا تا کہ ہوا آتی رہے۔اب غور کرو کہ کیا ایسے لوگ بادی ہو سکتے ہیں جو ایسی مذبذب اور مضطرب حالت میں ہوتے ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ جب تک اندر روشنی پیدا نہ ہو کیا فائدہ؟ لیکن یہ روشنی خدا تعالیٰ کے فضل ہی سے ملتی ہے۔یہ بالکل سچ ہے کہ سب طبائع یکساں نہیں ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ نے سب کو نبی پیدا نہیں کیا۔اثر صحبت لیکن صحبت میں بڑا شرف ہے اس کی تاثیر کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچا ہی دیتی ہے۔کسی کے پاس اگر خوشبو ہوتو پاس والے کو بھی پہنچ ہی جاتی ہے۔اسی طرح پر صادقوں کی صحبت ایک روح صدق کی نفخ کر دیتی ہے میں سچ کہتا ہوں کہ گہری صحبت نبی اور صاحب نبی کو ایک کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے جو قرآن شریف میں کُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة: ١١٩) فرمایا ہے اور اسلام کی خوبیوں میں سے یہ ایک بے نظیر خوبی ہے کہ ہر زمانہ میں ایسے صادق موجود رہتے ہیں لیکن آریہ سماجی یا عیسائی اس طریق سے کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جبکہ ان کے ہاں یہ مسلم امر ہے کہ اب کوئی شخص خدا رسیدہ ایسا ہو نہیں سکتا جس پر خدا تعالی کی تازہ بتازہ وحی نازل ہو اور وہ اس سے توفیق پا کر ان لوگوں کو صاف کرے جو گناہ آلود زندگی بسر کرتے ہیں۔میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ