تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 336
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۶ سورة البقرة دُعا بڑی عجیب چیز ہے مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرانے والے آداب دُعا سے واقف ہیں اور نہ اس زمانہ میں دُعا کرنے والے ان طریقوں سے واقف جو قبولیت دعا کے ہوتے ہیں بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دُعا کی حقیقت ہی سے بالکل اجنبیت ہو گئی ہے بعض ایسے ہیں جو سرے سے دُعا کے منکر ہیں اور جو دُعا کے منکر تو نہیں ان کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ چونکہ اُن کی دُعائیں بوجہ آداب الدعا کی ناواقفیت کے قبول نہیں ہوتی ہیں کیونکہ دُعا اپنے اصلی معنوں میں دُعا ہوتی ہی نہیں اس لئے وہ منکرین دُعا سے بھی گری ہوئی حالت میں ہیں ان کی عملی حالت نے دوسروں کو دہریت کے قریب پہنچا دیا ہے۔دُعا کے لئے سب سے اول اس امر کی ضرورت ہے کہ دُعا کرنے والا کبھی تھک کر مایوس نہ ہو جاوے اور اللہ تعالیٰ پر یہ سوء ظن نہ کر بیٹھے کہ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ اس قدر دعا کی گئی ہے کہ جب مقصد کا شگوفہ سرسبز ہونے کے قریب ہوتا ہے دُعا کرنے والے تھک گئے ہیں جس کا نتیجہ نا کامی اور نامُرادی ہو گیا ہے۔اور اس نامرادی نے یہاں تک بُرا اثر پہنچایا ہے کہ پھر دُعا کے تاثیرات کا انکار شروع ہوا اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ پھر خدا کا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اگر خدا ہوتا اور وہ دُعاؤں کو قبول کرنے والا ہوتا تو اس قدر عرصہ دراز تک جو دُعا کی گئی ہے کیوں قبول نہ ہوئی۔مگر ایسا خیال کرنے والا اور ٹھوکر کھانے والا انسان اگر اپنے عدم استقلال اور تکون کو سوچے تو اسے معلوم ہو جائے کہ یہ ساری نامراد یاں اس کی اپنی ہی جلد بازی اور شتاب کاری کا نتیجہ ہیں جن پر خدا کی قوتوں اور طاقتوں کے متعلق بدظنی اور نامراد کرنے والی مایوسی بڑھ گئی ، پس کبھی جھکنا نہیں چاہئے۔دُعا کی ایسی ہی حالت ہے جیسے ایک زمیندار باہر جا کر اپنے کھیت میں ایک بیج بو آتا ہے اب بظاہر تو یہ حالت ہے کہ اس نے اچھے بھلے اناج کو مٹھی کے نیچے دبادیا اُس وقت کوئی کیا سمجھ سکتا ہے کہ یہ دانہ ایک عمدہ درخت کی صورت میں نشو و نما پا کر پھل لائے گا۔باہر کی دنیا اور خود زمیندار بھی نہیں دیکھ سکتا کہ یہ دانہ اندر ہی اندرزمین میں ایک پودہ کی صورت اختیار کر رہا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانہ گل کر اندر ہی اندر پودہ بنے لگتا ہے اور تیار ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اُس کا سبزہ اوپر نکل آتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اُس کو دیکھ سکتے ہیں۔اب دیکھو وہ دانہ جس وقت سے زمین کے نیچے ڈالا گیا تھا دراصل اُسی ساعت سے وہ پودا بننے کی تیاری کرنے لگ گیا تھا۔مگر ظاہر بین نگاہ اس سے کوئی خبر نہیں رکھتی۔اور اب جبکہ اس کا سبزہ باہر نکل آیا تو سب نے دیکھ لیا لیکن ایک نادان بچہ اس وقت یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس کو اپنے وقت پر پھل لگے گا