تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 337

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۳۷ سورة البقرة وہ یہ چاہتا ہے کہ کیوں اسی وقت اس کو پھل نہیں لگتا ؟ مگر فقمند زمیندار خوب سمجھتا ہے کہ اس کے پھل کا کونسا موقع ہے وہ صبر سے اس کی نگرانی کرتا اور غور پرداخت کرتا رہتا ہے اور اس طرح پر وہ وقت آ جاتا ہے کہ جب اس کو پھل لگتا اور وہ پک بھی جاتا ہے۔یہی حال دُعا کا ہے اور بعینہ اسی طرح دُعا نشوونما پاتی اور مثمر ثمرات ہوتی ہے۔جلد باز پہلے ہی تھک کر رہ جاتے ہیں اور صبر کرنے والے مال اندیش استقلال کے ساتھ لگے رہتے ہیں اور اپنے مقصد کو پالیتے ہیں۔یہ سچی بات ہے کہ دُعا میں بڑے بڑے مراحل اور مراتب ہیں جن کی ناواقفیت کی وجہ سے دُعا کرنے والے اپنے ہاتھ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ان کو ایک جلدی لگ جاتی ہے اور وہ صبر نہیں کر سکتے حالانکہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں ایک تدریج ہوتی ہے۔دیکھو یہ کبھی نہیں ہوتا کہ آج انسان شادی کرے تو کل کو اُس کے گھر بچہ پیدا ہو جاوے حالانکہ وہ قادر ہے جو چاہے کر سکتا ہے مگر جو قانون اور نظام اس نے مقرر کر دیا ہے وہ ضروری ہے۔پہلے نباتات کی نشوونما کی طرح کچھ پتہ ہی نہیں لگتا۔چار مہینے تک کوئی یقینی بات نہیں کہہ سکتا۔پھر کچھ حرکت محسوس ہونے لگتی ہے اور پوری میعاد گذرنے پر بہت بڑی تکالیف برداشت کرنے کے بعد بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔بچہ کا پیدا ہونا ماں کا بھی ساتھ ہی پیدا ہونا ہوتا ہے۔مرد شایدان تکالیف اور مصائب کا اندازہ نہ کر سکیں جو اس مدت حمل کے درمیان عورت کو برداشت کرنی پڑتی ہیں مگر یہ سچی بات ہے کہ عورت کی بھی ایک نئی زندگی ہوتی ہے۔اب غور کرو کہ اولاد کے لئے پہلے ایک موت خود اُس کو قبول کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر وہ اس خوشی کو دیکھتی ہے۔اسی طرح پر دُعا کرنے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ تلون اور عجلت کو چھوڑ کر ساری تکلیفوں کو برداشت کرتا رہے اور کبھی بھی یہ وہم نہ کرے کہ دُعا قبول نہیں ہوئی آخر آنے والا زمانہ آ جاتا ہے اور دُعا کے نتیجہ کے پیدا ہونے کا وقت پہنچ جاتا ہے جب کہ گویا مراد کا بچہ پیدا ہوتا ہے۔دعا کو پہلے ضروری ہے کہ اس مقام اور حد تک پہنچایا جاوے جہاں پہنچ کر وہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے جس طرح پر آتشی شیشی کے نیچے کپڑا رکھ دیتے ہیں اور سورج کی شعاعیں اس شیشہ پر آ کر جمع ہوتی ہیں اور ان کی حرارت وحدت اس مقام پر پہنچ جاتی ہے جو اس کپڑے کو جلا دے پھر یکا یک وہ کپڑا جل اُٹھتا ہے۔اسی طرح پر ضروری ہے کہ دُعا اس مقام تک پہنچے جہاں اس میں وہ قوت پیدا ہو جاوے کہ نا مراد یوں کو جلا دے