تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 335

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۳۵ سورة البقرة تکلیفیں ہیں مگر ان سب کا علاج صرف صبر سے ہوتا ہے حافظ نے کیا اچھا کہا ہے۔شعر گویند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود و لیک بخون جگر شود یا درکھو کوئی آدمی کبھی دُعا سے فیض نہیں اُٹھا سکتا جب تک وہ صبر میں حد نہ کر دے اور استقلال کے ساتھ دُعاؤں میں نہ لگا رہے۔اللہ تعالیٰ پر کبھی بدظنی اور بدگمانی نہ کرے اُس کو تمام قدرتوں اور ارادوں کا مالک تصور کرے، یقین کرے پھر صبر کے ساتھ دُعاؤں میں لگا رہے، وہ وقت آ جائے گا کہ اللہ تعالیٰ اُس کی دُعاؤں کوسن لے گا اور اُسے جواب دے گا۔جو لوگ اس نسخہ کو استعمال کرتے ہیں وہ کبھی بدنصیب اور محروم نہیں ہو سکتے۔بلکہ یقینا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔خدا تعالی کی قدرتیں اور طاقتیں بے شمار ہیں اس نے انسانی تکمیل کے لئے دیر تک صبر کا قانون رکھا ہے پس اُس کو وہ بدلتا نہیں اور جو چاہتا ہے کہ وہ اس قانون کو اس کے لئے بدل دے وہ گویا اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتا اور بے ادبی کی جرات کرتا ہے۔پھر یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ بعض لوگ بے صبری سے کام لیتے ہیں اور مداری کی طرح چاہتے ہیں کہ ایک دم میں سب کام ہو جا ئیں میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی بے صبری کرے تو بھلا بے صبری سے خدا تعالیٰ کا کیا بگاڑے گا۔اپنا ہی نقصان کرے گا۔بے صبری کر کے دیکھ لے ! وہ کہاں جائے گا ؟ میں ان باتوں کو کبھی نہیں مان سکتا اور در حقیقت یہ جھوٹے قصے اور فرضی کہانیاں ہیں کہ فلاں فقیر نے پھونک مار کر یہ بنا دیا اور وہ کر دیا۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور قرآن شریف کے خلاف ہے اس لئے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ہر امر کے فیصلہ کے لئے معیار قرآن ہے۔دیکھو حضرت یعقوب علیہ السلام کا پیارا بیٹا یوسف علیہ السلام جب بھائیوں کی شرارت سے ان سے الگ ہو گیا تو آپ چالیس برس تک اُس کے لئے دُعائیں کرتے رہے اگر وہ جلد باز ہوتے تو کوئی نتیجہ پیدا نہ ہوتا۔چالیس برس تک دُعاؤں میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان رکھا۔آخر چالیس برس کے بعد وہ دُعائیں بھینچ کر یوسف کو لے ہی آئیں اس عرصہ دراز میں بعض ملامت کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ تو یوسف کو بے فائدہ یاد کرتا ہے مگر انہوں نے یہی کہا کہ میں خدا سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔بے شک اُن کو کچھ خبر نہ تھی مگر یہ کہا اني لا جدريح يُوسُفَ (یوسف:1)۔پہلے تو اتنا ہی معلوم تھا کہ دُعاؤں کا سلسلہ لمبا ہو گیا ہے اللہ تعالی نے اگر دُعاؤں سے محروم رکھنا ہوتا تو وہ جلد جواب دے دیتا مگر اس سلسلہ کا لمبا ہونا قبولیت کی دلیل ہے۔کیونکہ کریم سائل کو دیر تیک بٹھا کر کبھی محروم نہیں کرتا بلکہ بخیل سے بخیل بھی ایسا نہیں کرتا وہ بھی سائل کو اگر زیادہ دیر تک دروازہ پر بٹھائے تو آخر اُس کو کچھ نہ کچھ دے ہی دیتا ہے۔احکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۲،۱)