تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 17

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷ سورة البقرة نفس اور بھی دلیر اور بے باک ہوگا کہ اب تو قانونی طور پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہوسکتا مگر یہ ٹھیک نہیں۔عدل کا تقاضا یہی ہے کہ اس کا دین واجب ادا کیا جاوے اور کسی حیلے اور عذر سے اس کو دبایا نہ جاوے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پروا نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم توجہ کرتے ہیں اپنے قرضوں کے ادا کرنے میں۔یہ عدل کے خلاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے لوگوں کی نماز نہ پڑھتے تھے۔پس تم میں سے ہر ایک اس بات کو خوب یا درکھے کہ یادر قرضوں کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہئے اور کسی قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دور بھاگنا چاہئے۔کیونکہ سیا مرالہی کے خلاف ہے جو اس نے اس آیت میں دیا ہے۔حالت احسان اس کے بعد احسان کا درجہ ہے جو شخص عدل کی رعایت کرتا ہے اور اس کی حد بندی کو نہیں تو ڑتا اللہ تعالیٰ اسے توفیق اور قوت دے دیتا ہے اور وہ نیکی میں اور ترقی کرتا ہے۔یہاں تک کہ عدل ہی نہیں کرتا بلکہ تھوڑی سی نیکی کے بدلے بہت بڑی نیکی کرتا ہے لیکن احسان کی حالت میں بھی ایک کمزوری ابھی باقی ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی نہ کسی وقت اس نیکی کو جتا بھی دیتا ہے مثلاً ایک شخص دس برس تک کسی کو روٹی کھلاتا ہے۔اور وہ کبھی ایک بات اس کی نہیں مانتا تو اسے کہ دیتا ہے کہ دس برس کا ہمارے ٹکڑوں کا غلام ہے۔اور اس طرح پر اس نیکی کو بے اثر کر دیتا ہے۔دراصل احسان والے کے اندر بھی ایک قسم کی مخفی ریا ہوتی ہے لیکن تیسرا مرتبہ ہر قسم کی آلائش اور آلودگی سے پاک ہے اور وہ ایتائی ذی القربی کا درجہ ہے۔ایتاء ذی القربی کی حالت ايتاء ذی القربی کا درجہ طبعی حالت کا درجہ ہے۔یعنی جس مقام پر انسان سے نیکیوں کا صدور ایسے طور پر ہو جیسے طبعی تقاضا ہوتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسی ماں اپنے بچے کو دودھ دیتی ہے اور اس کی پرورش کرتی ہے۔کبھی اس کو خیال بھی نہیں آتا کہ بڑا ہو کر کمائی کرے گا اور اس کی خدمت کرے گا۔یہاں تک کہ اگر کوئی بادشاہ اسے یہ حکم دے کہ تو اگر اپنے بچے کو دودھ نہ دے گی اور اس سے وہ مرجادے تو بھی تجھ سے مواخذہ نہ ہو گا۔اس حکم پر بھی اس کو دودھ دینا وہ نہیں چھوڑ سکتی بلکہ ایسے بادشاہ کو دو چار گالیاں ہی سناوے گی۔اس لئے کہ وہ پرورش اس کا ایک طبعی تقاضا ہے وہ کسی امید یا خوف پر مبنی نہیں۔اسی طرح پر جب انسان نیکی میں ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچتا ہے کہ وہ نیکیاں اس سے ایسے طور پر صادر ہوتی ہیں گویا ایک طبعی تقاضا