تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 16
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶ سورة البقرة اور نفس کے درمیان ایک جنگ جاری رہتی ہے جس میں کبھی وہ غالب آجا تا ہے اور کبھی نفس اسے مغلوب کر لیتا ہے یہ سلسلہ لڑائی کا بدستور جاری رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی دستگیری کرتا ہے اور آخر اسے کامیاب اور بامراد کرتا ہے اور وہ اپنے نفس پر فتح پالیتا ہے پھر تیسری حالت میں پہنچ جاتا ہے جس کا نام نفسِ مطمئنہ ہے۔اس وقت اس کے نفس کے تمام گند دور ہو جاتے ہیں اور ہر قسم کے فسادمٹ جاتے ہیں۔نفس مطمئنہ کی آخری حالت ایسی حالت ہوتی ہے جیسے دو سلطنتوں کے درمیان ایک جنگ ہو کر ایک فتح پالے اور وہ تمام مفسدہ دور کر کے امن قائم کرے اور پہلا سارا نقشہ ہی بدل جاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں اس امر کی طرف اشارہ ہے: اِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةٌ (العمل: ۳۵) یعنی جب بادشاہ کسی گاؤں میں داخل ہوتے ہیں تو پہلا تانا باناسب تباہ کر دیتے ہیں بڑے بڑے نمبر دار رئیس نواب ہی پہلے پکڑے جاتے ہیں اور بڑے بڑے نامور ذلیل کئے جاتے ہیں اور اس طرح پر ایک تغیر عظیم واقع ہوتا ہے یہی ملوک کا خاصہ ہے اور ایسا ہی ہمیشہ ہوتا چلا آیا ہے اسی طرح پر جب روحانی سلطنت بدلتی ہے تو پہلی سلطنت پر تباہی آتی ہے۔شیطان کے غلاموں کو قابو کیا جاتا ہے۔وہ جذبات اور شہوات جو انسان کی روحانی سلطنت میں مفسدہ پردازی کرتے ہیں ان کو کچل دیا جاتا ہے اور ذلیل کیا جاتا ہے اور روحانی طور پر ایک نیا سکہ بیٹھ جاتا ہے اور بالکل امن و امان کی حالت پیدا ہو جاتی ہے یہی وہ حالت اور درجہ ہے جو نفس مطمئنہ کہلاتا ہے اس لئے کہ اس وقت کسی قسم کی کشمکش اور کوئی فساد پایا نہیں جاتا بلکہ نفس ایک کامل سکون اور اطمینان کی حالت میں ہوتا ہے کیونکہ جنگ کا خاتمہ ہو کر نئی سلطنت قائم ہو جاتی ہے اور کوئی فساد اور مفسدہ باقی نہیں رہتا۔بلکہ دل پر خدا کی فتح کامل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ خود اس کے عرشِ دل پر نزول فرماتا ہے۔اسی کو کمال درجہ کی حالت بیان فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا: إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَاى ذِي الْقُربى (النحل : 91) یعنی بیشک اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے اور پھر اس سے ترقی کرو تو احسان کا حکم دیتا ہے اور پھر اس سے بھی ترقی کرو تو ایتَائِی ذِي الْقُرْبی کا حکم ہے۔حالت عدل عدل کی حالت یہ ہے جو مشقی کی حالت نفس اتارہ کی صورت میں ہوتی ہے اس حالت کی اصلاح کے لئے عدل کا حکم ہے۔اس میں نفس کی مخالفت کرنی پڑتی ہے۔مثلاً کسی کا قرضہ ادا کرنا ہے لیکن نفس اس میں یہی خواہش کرتا ہے کہ کسی طرح سے اس کو دبالوں اور اتفاق سے اس کی میعاد بھی گزر جاوے اس صورت میں