تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 310
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۰ سورة البقرة رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت در ددل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا اور اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اُس کے لئے روزے رکھیں گے بشرطیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو تو خدا تعالیٰ ہرگز اُسے ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔یہ ایک بار یک امر ہے کہ اگر کسی شخص پر (اپنے نفس کی کسل کی وجہ سے ) روزہ گراں ہے اور وہ اپنے خیال میں گمان کرتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور میری صحت ایسی ہے کہ اگر ایک وقت نہ کھاؤں تو فلاں فلاں عوارض لاحق حال ہوں گے اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا تو ایسا آدمی جو خدا کی نعمت کو خود اپنے او پر گراں گمان کرتا ہے کب اُس ثواب کا مستحق ہوگا۔ہاں وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آ گیا اور اس کا منتظر میں تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزے سے محروم نہیں ہے۔اس دنیا میں بہت لوگ بہا نہ بجو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جیسے اہل دنیا کو دھوکہ دے لیتے ہیں ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔بہانہ جو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش کرتے ہیں اور تکلفات شامل کر کے ان وسائل کو صحیح گردانتے ہیں لیکن خدا کے نزدیک وہ صحیح نہیں ہے۔تکلفات کا باب بہت وسیع ہے اگر انسان خدا چاہے تو اُس کے رُو سے ساری عمر بیٹھ کر نماز پڑھتا رہے اور رمضان کے روزے بالکل ہی نہ رکھے مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتا ہے جو صدق اور اخلاق سے رکھتا ہے خدا جانتا ہے کہ اُس کے دل میں درد ہے اور خدا اُسے ثواب سے زیادہ بھی دیتا ہے کیونکہ درد دل ایک قابل قدر شے ہے۔حیلہ بجو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شے نہیں۔جب میں نے چھ ماہ روزے رکھے تھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء کا مجھے ملا ( کشف میں ) اور انہوں نے کہا تو نے کیوں اپنے نفس کو اس قدر مشقت میں ڈالا ہوا ہے؟ اس سے باہر نکل۔اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ خود ماں باپ کی طرح رحم کر کے اُسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت (البدر جلد نمبر۷ مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵۳،۵۲) میں پڑا ہوا ہے۔ایک شخص نے سوال کیا کہ میں نے آج سے پہلے کبھی روزہ نہیں رکھا اس کا کیا فد یہ دوں ؟ فرمایا : خدا ہر شخص کو اس کی وسعت سے باہر دکھ نہیں دیتا۔وسعت کے موافق گذشتہ کا فدیہ دے دو اور فرمایا: خدا کو کی سے باہر دکھ کے موافق کا فدیہ (البدر جلد نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۹۱) آئندہ عہد کرو کہ سب روزے ضرور رکھوں گا۔وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ کی نسبت فرمایا کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جو طاقت نہیں رکھتے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۶ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷)