تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 311
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١١ سورة البقرة اللہ تعالیٰ نے شریعت کی بنا آسانی پر رکھی ہے جو مسافر اور مریض صاحب مقدرت ہوں ان کو چاہئے کہ روزہ کی بجائے فدیہ دے دیں۔فدیہ یہ ہے کہ ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۷) 66 گذشته پر چه اخبار نمبر ۴۲ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ ء کے صفحہ سے کالم اول میں یہ لکھا گیا تھا کہ۔۔۔۔۔جو مریض اور مسافر صاحب مقدرت ہوں ان کو چاہئے کہ روزہ کے بجائے فدیہ دیں۔اس جگہ مریض اور مسافر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو کبھی امید نہیں کہ پھر روزہ رکھنے کا موقع مل سکے۔مثلاً ایک نہایت بوڑھا ضعیف انسان یا ایک کمزور حاملہ عورت جو دیکھتی ہے کہ بعد وضع حمل بسبب بچے کو دودھ پلانے کے وہ پھر معذور ہو جائے گی اور سال بھر اسی طرح گزر جائے گا۔ایسے اشخاص کے واسطے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں کیونکہ وہ روزہ رکھے ہی نہیں سکتے اور فدیہ دیں۔باقی اور کسی کے واسطے جائز نہیں کہ صرف فدیہ دے کر روزے کے رکھنے سے معذور سمجھا جا سکے۔چونکہ اخبار بدر کی مذکورہ بالا عبارت صاف نہ تھی اس واسطے یہ مسئلہ دوبارہ حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا آپ نے فرمایا (ایڈیٹر): صرف فدیہ تو شیخ فانی یا اس جیسوں کے واسطے ہوسکتا ہے۔جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے ورنہ عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔صرف فدیہ کا خیال کرنا اباحت کا دروازہ کھول دینا ہے۔جس دین میں مجاہدات نہ ہوں وہ دین ہمارے نزدیک کچھ نہیں۔اس طرح سے خدا تعالیٰ کے بوجھوں کوسر پر سے ٹالنا سخت گناہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جولوگ میرے راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ان کو ہی ہدایت دی جاوے گی۔فرمایا: خدا تعالیٰ نے دین اسلام میں پانچ مجاہدات مقرر فرمائے ہیں۔نماز ، روزہ ، زکوتہ صدقات، حج، اسلامی دشمن کا ذب اور دفع خواہ سیفی ہو، خواہ قلمی۔یہ پانچ مجاہدے قرآن شریف سے ثابت ہیں مسلمانوں کو چاہئے کہ ان میں کوشش کریں اور ان کی پابندی کریں۔یہ روزے تو سال میں ایک ماہ کے ہیں۔بعض اہل اللہ تو نوافل کے طور پر اکثر روزے رکھتے رہتے ہیں اور ان میں مجاہدہ کرتے ہیں۔ہاں دائمی روزے رکھنا منع ہیں یعنی ایسا نہیں چاہئے کہ آدمی ہمیشہ روزے ہی رکھتا ر ہے بلکہ ایسا کرنا چاہئے کہ نفلی روزہ بھی رکھے اور کبھی چھوڑ دے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ /اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۳) فدیہ رمضان کے متعلق فرمایا: ) خواہ اپنے شہر میں کسی مسکین کو کھلائے یا یتیم اور مسکین فنڈ میں بھیج دے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۶ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۷ صفحه ۴)