تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 279
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۷۹ سورة البقرة میں نہیں ہوتا۔اور نہ بہشت کی خواہش یا دوزخ کا ذکر ان کو خدا تعالیٰ کی اطاعت کا محرک ہوتا ہے بلکہ وہ طبعی جوش اور طبعی محبت سے خدا تعالیٰ سے محبت کرتے اور اس کی اطاعت میں محو ہوتے ہیں ان پر جب کوئی بلا آتی ہے تو وہ خود محسوس کر لیتے ہیں کہ یہ از راہ محبت ہے وہ دیکھتے ہیں کہ ان بلاؤں کے ذریعہ ایک چشمہ کھولا جاتا ہے جس سے وہ سیراب ہوتے ہیں اور ان کا دل لذت سے بھر جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت ایک فوارہ کی طرح جوش مارنے لگ جاتی ہے تب وہ چاہتے ہیں کہ یہ بلا زیادہ ہوتا کہ قرب الہی زیادہ ہو اور رضا کے مدارج جلد طے ہوں۔غرض الفاظ وفا نہیں کرتے جو اس لذت کو بیان کر سکیں جو اخیار و ابرار کو ان بلاؤں کے ذریعہ آتی ہے۔یہ لذت تمام سفلی لذتوں سے بڑھی ہوئی ہے اور فوق الفوق لذت ہوتی ہے۔یہ مصیبت کیا ہے؟ ایک عظیم الشان دعوت ہے جس میں قسم قسم کے انعام و اکرام اور پھل اور میوے پیش کئے جاتے ہیں۔خدا اس وقت قریب ہوتا ہے فرشتے ان سے مصافحہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے مکالمہ کا شرف عطا کیا جاتا ہے اور وحی اور الہام سے اس کی تسلی اور سکینت دی جاتی ہے۔لوگوں کی نظر میں یہ بلاؤں اور مصیبتوں کا وقت ہے مگر دراصل اس وقت اللہ تعالیٰ کے فیضان اور فیوض کی بارش کا وقت ہوتا ہے۔سفلی اور سطحی خیال کے لوگ اس کو سمجھ نہیں سکتے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ بلاؤں اور غموں ہی کا وقت ہے جو مزا آتا ہے اور راحت ملتی ہے۔کیونکہ خدا جو انسان کا اصل مقصود ہے اس وقت اپنے بندے کے بہت ہی قریب ہوتا ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ قرآن جو دیا گیا ہے غم کی حالت میں دیا گیا ہے پس تم بھی اس کو غم کی حالت میں پڑھو۔غرض میں کہاں تک بیان کروں کہ ان بلاؤں میں کیا لذت اور مزا ہوتا ہے اور عاشق صادق کہاں تک ان سے محظوظ ہوتا ہے۔مختصر طور پر یاد رکھو کہ ان بلاؤں کا پھل اور نتیجہ جو ابرار اور اخیار پر آتی ہیں۔جنت اور ترقی درجات ہے اور وہ بلائیں اور غم جو مفسدوں اور شریروں پر آتے ہیں ان کی وجہ شامت اعمال اور تاریک زندگی ہے اور اس کا نتیجہ جہنم اور عذاب الہی ہے۔پس جو شخص آگ کے پاس جاتا ہے ضرور ہے کہ وہ اس کی سوزش سے حصہ لے اور اسے محسوس کرے اور اسے دکھ پہنچے لیکن جو ایک باغ میں جاتا ہے یقینی امر ہے کہ اس کے پھلوں اور پھولوں کی خوشبو سے اور اس خوبصورت نظارہ کے مشاہدہ سے لذت پاوے۔اب واضح رہے کہ جس حال میں وہ بلائیں جو شامت اعمال کی وجہ سے آتی ہیں اور جن کا نتیجہ جہنمی زندگی اور عذاب الہی ہے، اُن بلاؤں سے جو ترقی درجات کے طور پر اخیار و ابرار کو آتی ہیں الگ ہیں کیا کوئی ایسی صورت بھی ( ہے ) جو انسان اس عذاب سے نجات پاوے؟