تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 278

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۸ سورة البقرة مصیبت ان کے لئے مدرک العلاوت ہو جاتی ہے وہ اس سے لذت اُٹھاتے ہیں اور روحانی ترقیوں کے لئے ایک ذریعہ ہو جاتی ہیں۔کیونکہ ان کے درجات کی ترقی کے لئے ایسی بلاؤں کا آنا ضروری ہے جو ترقیات کے لئے زمینہ کا کام دیتی ہیں۔جو شخص ان بلاؤں میں نہیں پڑتا اور ان مصیبتوں کو نہیں اُٹھاتا وہ کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکتا۔دنیا کے عام نظام میں بھی تکالیف اور مشقتوں کا ایک سلسلہ ہے جس میں سے ہر ایسے شخص کو جو ترقی کا خواہاں ہے گزرنا پڑتا ہے۔لیکن ان تکالیف اور شاقہ محنتوں میں باوجود تکالیف کے ایک لذت ہوتی ہے جو اسے کشاں کشاں آگے لئے جاتی ہے برخلاف اس کے وہ مصیبت اور تکالیف جو انسان کی اپنی بدکرداری کی وجہ سے اس پر آتی ہے وہ وہ مصیبت آتی ہے جس میں ایک درد اور سوزش ہوتی ہے جو اس کی زندگی اس کے لئے وبال جان کر دیتی ہے وہ موت کو ترجیح دیتا ہے مگر نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ مر کر بھی ختم نہیں ہوگا۔غرض بلاؤں کے نزول میں ہمیشہ سے قانونِ قدرت یہی ہے کہ جو بلائیں شامت اعمال کی وجہ سے آتی ہیں وہ الگ ہیں اور خدا کے راستبازوں اور پیغمبروں پر جو بلائیں آتی ہیں وہ اُن کی ترقی درجات کے لئے ہوتی ہیں۔بعض جاہل جو اس راز کو نہیں سمجھتے وہ جب بلاؤں میں مبتلا ہوتے ہیں تو بجائے اس کے کہ اس بلا سے فائدہ اُٹھائیں اور کم از کم آئندہ کے لئے مفید سبق حاصل کریں اور اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا کریں کہہ دیتے ہیں کہ اگر ہم پر مصیبت آئی تو کیا ہوا؟ نبیوں اور پیغمبروں پر بھی تو آ جاتی ہیں حالانکہ ان بلاؤں کو انبیاء کے مشکلات اور مصائب سے کوئی نسبت ہی نہیں۔جہالت بھی کیسی بری مرض ہے کہ انسان اس میں قیاس مع الفارق کر بیٹھتا ہے۔یہ بڑا دھو کہ واقعہ ہوتا ہے جو انسان تمام انبیاء کی مشکلات کو عام لوگوں کی دھوکہ بلاؤں پر حمل کر لیتا ہے۔پس خوب یاد رکھو کہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے انبیاء اور دوسرے اختیار و ابرار کی بلائیں محبت کی راہ سے ہیں خدا تعالیٰ اُن کو ترقی دیتا جاتا ہے اور یہ بلائیں وسائل ترقی میں سے ہیں۔لیکن جب مفسدوں پر آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کو اس عذاب سے تباہ کرنا چاہتا ہے وہ بلائیں ان کے استیصال اور نیست و نابود کرنے کا ذریعہ ہو جاتی ہیں۔یہ ایسا فرق ہے کہ دلائل کا محتاج نہیں ہے کیونکہ جب اچھے آدمی جو خدا تعالیٰ کو مقدم کر لیتے ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کیوں کرتے ہیں؟ بہشت اور دوزخ ان کے دل