تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 280
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۰ سورة البقرة اس عذاب اور دکھ سے رہائی کی بجز اس کے کوئی تجویز اور علاج نہیں ہے کہ انسان سچے دل سے تو بہ کرے جب تک کچی تو بہ نہیں کرتا یہ بلائیں جو عذاب الہی کے رنگ میں آتی ہیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑ سکتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو نہیں بدلتا جو اس بارے میں اس نے مقرر فرما دیا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيَّرُوا مَا بِأَنفُسِهِم (الرعد :۱۲) یعنی جب تک کوئی قوم اپنی حالت میں تبدیلی پیدا نہیں کرتی اللہ تعالیٰ بھی اس کی حالت نہیں بدلتا۔خدا تعالیٰ ایک تبدیلی چاہتا ہے اور وہ پاکیزہ تبدیلی ہے جب تک وہ تبدیلی نہ ہو عذاب الہی سے رستگاری اور مخلصی نہیں ملتی۔۔۔۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کے لئے تبدیلی ہو یعنی وہ ان عذابوں اور دکھوں سے رہائی پائے جو شامت اعمال نے اس کے لئے تیار کئے ہیں اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔جب وہ خود تبدیلی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق جو اُس نے اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا ما بانفسھم میں کیا ہے اس کے عذاب اور دکھ کو بدلا دیتا ہے اور دکھ کو سکھ سے تبدیل کر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔اس امر کے دلائل بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ انسان اپنی اس مختصر زندگی میں بلاؤں سے محفوظ رہنے کا کس قدر محتاج ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان بلاؤں اور وباؤں سے محفوظ رہے جو شامت اعمال کی وجہ سے آتی ہیں۔اور یہ ساری باتیں سچی توبہ سے حاصل ہوتی ہیں پس تو بہ کے فوائد میں سے ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس کا حافظ اور نگران ہو جاتا ہے۔اور ساری بلاؤں کو خدا دور کر دیتا ہے۔اور اُن منصوبوں سے جو دشمن اُس کے لئے تیار کرتے ہیں ان سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کا یہ فضل اور برکت کسی سے خاص نہیں بلکہ جس قدر بندے ہیں خدا تعالی کے ہی ہیں اس لئے ہر ایک شخص جو اس کی طرف آتا ہے اور اس کے احکام اور اوامر کی پیروی کرتا ہے وہ بھی ویسا ہی ہوگا۔جیسے پہلا شخص تو بہ کر چکا ہے وہ ہر ایک سچی توبہ کرنے والے کو بلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۱۷ رستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۳،۲) ثمرات سے مراد اولاد ہے۔اور یہ خدا کی طرف سے ابتلا ہوتے ہیں اور یہی انسان کا امتحان ہوتا ہے ہاں یہ باتیں اور کامل ایمان حاصل ہوتا ہے، توبہ استغفار سے۔اس کی کثرت کرو اور رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف : ٢٣) پڑھا کرو اور اس کی کثرت کرو خدا تعالیٰ نعم البدل عطا کرے گا۔خدا کا دامن نہ چھوڑنے والا گنہگار ہو کر بھی بخشا جاتا ہے۔ہاں تعلق توڑنا بری بات