تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 12

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۲ سورة البقرة سے اُس کی پیروی کرے اس سے زیادہ انسان میں طاقت نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے آیت هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر اس کی کتاب اور رسول پر کوئی ایمان لائے گا تو وہ مزید ہدایت کا مستحق ہوگا اور خدا اُس کی آنکھ کھولے گا اور اپنے مکالمات و مخاطبات سے مشرف کرے گا اور بڑے بڑے نشان اُس کو دکھائے گا۔یہاں تک کہ وہ اسی دنیا میں اُس کو دیکھ لے گا کہ اُس کا خدا موجود ہے اور پوری تسلی پائے گا۔خدا کا کلام کہتا ہے کہ اگر تو میرے پر کامل ایمان لاوے تو میں تیرے پر بھی نازل ہوں گا۔اسی بنا پر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس اخلاص اور محبت اور شوق سے خدا کے کلام کو پڑھا کہ وہ الہامی رنگ میں میری زبان پر بھی جاری ہو گیا۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۵ تا ۱۴۱) ترجمہ: میں اللہ بہت جاننے والا ہوں۔یہ کتاب جس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے متقیوں کے لئے ہدایت نامہ ہے (مشقی کون ہوتے ہیں؟) جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو کھڑی کرتے ہیں اور جو کچھ انہیں عطا کیا گیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اور منتقی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس وحی پر ایمان لاتے ہیں جو تجھ پر نازل کی گئی ہے اور اس وحی پر بھی جو تجھ سے پہلے نازل ہوئی اور آخرۃ پر بھی یقین رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب سے ہدایت یافتہ ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔تفسير - اله ذلِكَ الْكِتَبُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُقِین میں اللہ جو بہت جاننے والا ہوں یہ کتاب جو شک وشبہ اور ہر عیب و نقص سے پاک ہے متقیوں کی ہدایت کے لئے بھیجی گئی ہے۔قرآن کریم کی علل اربعہ ہر شے کی چار علتیں ہوتی ہیں یہاں بھی ان علل اربعہ کو بیان کیا ہے اور وہ علیل اربعہ یہ ہوتی ہیں عِلتِ کی چارعا فاعلی۔علت صوری۔عِلتِ مادی۔عِلتِ غائی۔اس مقام پر قرآن شریف کی چار علتوں کا ذکر کیا۔علت فاعلی تو اس کتاب کی اللہ ہے اور اللہ کے معنے میرے نزدیک أَنَا اللهُ أَعلَمُ یعنی میں اللہ وہ ہوں جو سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور علت مادى ذلك الكتب ہے یعنی یہ کتاب اس خدا کی طرف سے آئی ہے جو سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔اور علت صوری لاریب فیہ ہے یعنی اس کتاب کی خوبی اور کمال یہ رَيْبَ فِیهِ ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ ہی نہیں جو بات ہے مستحکم اور جو دعوئی ہے وہ مدلل اور روشن اور علت غائی اس کتاب کی هُدًى لِلْمُتَّقِينَن ہے یعنی اس کتاب کے نزول کی غرض وغایت یہ ہے کہ متقیوں کو ہدایت کرتی ہے۔یہ چاروں علتیں بیان کرنے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے عام صفات بتائے ہیں کہ وہ مشقی کون