تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 13

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ سورة البقرة ج ہوتے ہیں جو ہدایت پاتے ہیں الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ لوَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ یعنی وہ متقی ہوتے ہیں جو خدا پر جو ہنوز پردہ غیب میں ہوتا ہے ایمان لاتے ہیں اور نماز کو کھڑا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور وہ ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو تجھ پر نازل کی ہے اور جو کچھ تجھ سے پہلے نازل ہوا اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔یہ صفات متقی کے بیان فرمائے۔اب یہاں بالطبع ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کتاب کی غرض و غایت تو یہ بتائی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ اور پھر متقیوں کے صفات بھی وہ بیان کئے جو سب کے سب ایک باخدا انسان میں ہوتے ہیں یعنی خدا پر ایمان لاتا ہو، نماز پڑھتا ہو، صدقہ دیتا ہو، کتاب اللہ کو مانتا ہو، قیامت پر یقین رکھتا ہو پھر جو شخص پہلے ہی سے ان صفات سے متصف ( ہے ) اور وہ متقی کہلاتا ہے اور ان امور کا پابند ہے تو پھر وہ ہدایت کیا ہوئی ؟ جو اس کتاب کے ذریعہ اُس نے حاصل کی اس میں وہ امر زائد کیا ہے جس کے لئے یہ کتاب نازل ہوئی ہے؟ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور امر ہے جو اس ہدایت میں رکھا گیا ہے کیونکہ یہ امور جو بطور صفات متقین بیان فرمائے ہیں یہ تو اس ہدایت کے لئے جو اس کتاب کا اصل مقصد اور غرض ہے بطور شرا کا ہیں اور نہ وہ ہدایت اور چیز ہے اور وہ ایک اعلیٰ امر ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے اور جس کو میں بیان کرتا ہوں پس یا درکھو کہ متلی کی صفات میں سے پہلی صفت یہ بیان کی يُؤْمِنُونَ بِالغیب یعنی غیب پر ایمان لاتے ہیں۔یہ مومن کی ایک ابتدائی حالت کا اظہار ہے کہ جن چیزوں کو اس نے نہیں دیکھا ان کو مان لیا ہے۔غیب اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور اس غیب میں بہشت، دوزخ ، حشر اجساد اور وہ تمام امور جو ابھی تک پردہ غیب میں ہیں شامل ہیں۔اب ابتدائی حالت میں تو مومن ان پر ایمان لاتا ہے لیکن ہدایت یہ ہے کہ اس حالت پر اُسے ایک انعام عطا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا علم غیب سے انتقال کر کے شہود کی طرف آجاتا ہے اور اس پر پھر ایسا زمانہ آ جاتا ہے کہ جن باتوں پر وہ پہلے غائب کے طور پر ایمان لاتا تھا وہ ان کا عارف ہو جاتا ہے اور وہ امور جو ابھی تک مخفی تھے اس کے سامنے آ جاتے ہیں اور حالتِ شہود میں انہیں دیکھتا ہے پھر وہ خدا کو غیب نہیں مانتا بلکہ اسے دیکھتا ہے اور اس کی تجلی سامنے رہتی سے غرض اس غیب کے بعد شہود کا درجہ اسے عطا کیا جاتا ہے جیسے ایمان کے بعد عرفان کا مرتبہ ملتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کو اسی عالم میں دیکھ لیتا ہے اور اگر اس کو یہ مرتبہ عطا نہ ہوتا تو پھر يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے مصداق کو کوئی ہدایت اور انعام عطا نہ ہوتا۔اس کے لئے قرآن شریف گویا موجب ہدایت نہ ہوتا۔مگر ایسا