تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 198

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۸ سورة البقرة مَرْيَمَ الْبَيِّنَتِ وَ اَيَّدُ نَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ افَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولُ بِمَا لَا تَهُوَى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَنَّ بِتُم وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ۔تمہاری یہی عادت رہی کہ جب کوئی نبی تمہاری طرف بھیجا گیا تو بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کے در پے قتل ہوئے یاقتل ہی کر دیا۔اب فرمائیے کہ اگر یہ کلمات بطور استعارہ نہیں ہیں اور ان تمام آیات کو ظاہر پر حمل کرنا چاہیئے تو پھر یہ مانا پڑے گا کہ جولوگ در حقیقت ان آیات کے مخاطب ہیں جن کو آل فرعون سے نجات دی گئی تھی اور جن کو دریا نے راہ دیا تھا اور جن پر من وسلویٰ اتارے گئے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک زندہ ہی تھے یا مرنے کے بعد پھر زندہ ہو کر آگئے تھے۔کیا آپ لوگ جب مسجدوں میں بیٹھ کر قرآن کریم کا ترجمہ پڑھاتے ہیں تو ان آیات کے معنے یہ سمجھایا کرتے ہیں کہ ان آیات کے مخاطبین ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت تک بقید حیات تھے یا قبروں سے زندہ ہو کر پھر دنیا میں آگئے تھے۔اگر کوئی طالب علم آپ سے سوال کرے کہ ان آیات کے ظاہر مفہوم سے تو یہی معنے نکلتے ہیں کہ مخاطب وہی لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ اور دوسرے نبیوں کے وقت موجود تھے کیا اب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں زندہ تھے یا زندہ ہو کر پھر دنیا میں آگئے تھے۔تو کیا آپ کا یہی جواب نہیں کہ بھائی وہ تو سب فوت ہو گئے اور اب مجازی طور پر مخاطب اُن کی نسل ہی ہے جو اُن کے کاموں پر راضی ہے گویا انہیں کا وجود ہے یا یوں کہو کہ گویا وہی ہیں۔تو اب سمجھ لو کہ یہی مثال ابن مریم کے نزول کی ہے۔عنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ مراتب وجود دوری ہیں اور بعض کے ارواح بعض کی صورت مثالی لے کر اس عالم میں آتے ہیں اور روحانیت ان کی بکلی ایک دوسرے پر منطبق ہوتی ہے۔آیت تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ (البقرة:119) کو غور سے پڑھو۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۴۶، ۴۴۷) یعنی اے بنی اسرائیل! کیا تمہاری یہ عادت ہو گئی کہ ہر ایک رسول جو تمہارے پاس آیا تو تم نے بعض کی ان میں سے تکذیب کی اور بعض کو قتل کر ڈالا۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۴) وَقَطَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ مولویوں کے احادیث پیش کرنے پر فرمایا کہ ان (احادیث) پر ایسا وثوق تو نہیں ہوتا جیسے کلام الہی پر۔کیونکہ خواہ کچھ ہی ہو پھر بھی وہ میں انسان سے تو خالی نہیں مگر خدا تعالیٰ جس کی