تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 195
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۵ سورة البقرة خدائے تعالیٰ کی طرف سے سمجھیں۔علم عمل الترب ایک عظیم الشان علم ہے جو طبیعی کا ایک روحانی حصہ ہے جس میں بڑے بڑے خواص اور عجائبات پائے جاتے ہیں۔اور اس کی اصلیت یہ ہے کہ انسان جس طرح باعتبار اپنے مجموعی وجود کے تمام چیزوں پر خلیفتہ اللہ ہے اور سب چیزیں اس کے تابع کر دی گئی ہیں اسی طرح انسان جس قدر اپنے اندر انسانی قومی رکھتا ہے تمام چیزیں ان قومی کی اس طرح پر تابع ہیں کہ شرائط مناسبہ کے ساتھ ان کا اثر قبول کر لیتی ہیں۔انسان قوت فاعلہ کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے اور دوسری چیزیں قوت منفعلہ رکھتی ہیں۔ادنی اثر انسان کی قوت فاعلہ کا یہ ہے کہ ہر یک جاندار اس سے ایسا ہل سکتا ہے کہ اس کے خادموں میں اپنے تئیں شمار کر لیتا ہے اور اس کا مسخر ہو جاتا ہے۔فطرت نے جن انسانوں کو قوت فاعلہ کا بہت ساحصہ دیا ہے اُن سے عمل الترب کے عجیب عجیب خواص ظاہر ہوتے ہیں۔درحقیقت انسان ایک ایسا جانور ہے کہ اس کے ظاہری اور باطنی قومی ترقی دینے سے ترقی پذیر ہو سکتے ہیں اور ان کی قوت فاعلی کا اثر بڑھ جاتا ہے۔مثلاً جن لوگوں کو ہمارے ملک میں ڈائن کہتے ہیں ان کی صرف اس قدر حقیقت ہے کہ ان کی زہریلی نظر سے ضعیف الخلفت لوگ بچے وغیرہ کسی قدر متاثر ہو جاتے ہیں۔بعض لوگ اپنی زہریلی نظر سے درندوں کو مغلوب اور متاثر کر کے آسانی سے اُن کا شکار کر لیتے ہیں۔بعض اپنے تصورات تربی مشق کی وجہ سے دوسرے کے دل میں ڈال دیتے ہیں۔بعض اپنی کیفیت ذوقی کا اثر اسی عمل کے زور سے دوسرے کے دل تک پہنچا سکتے ہیں۔بعض بے جان چیزوں پر اثر ڈال کر ان میں حرکت پیدا کر دیتے ہیں۔چنانچہ زمانہ حال میں بھی ان ہاتوں میں مشق رکھنے والے بہت نظر آتے ہیں۔بعض کئے ہوئے سر بکری وغیرہ کے عمل الشرب کے زور سے ایسی حرکت میں لاتے ہیں کہ وہ ناچتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔بعض عمل الترب کے زور سے چوروں کا پتہ لگا لیتے ہیں۔قرآن شریف یا لوٹے کو حرکت دے کر جو چور کا پتہ نکالتے ہیں حقیقت میں یہ عمل الترب کی ایک شاخ ہے۔اگر چہ اس کی شرائط ضرور یہ کے نہ پائے جانے کی وجہ سے غلطی واقع ہو۔چنانچہ اسی وجہ سے بکثرت غلطی واقع ہوتی بھی ہے لیکن یہ غلطی اس عمل کی عزت اور عظمت کو گھٹا نہیں سکتی کیونکہ بہت سے تجارب صحیحہ سے اس کی اصلیت ثابت ہو چکی ہے۔بے شک انسانی حیات اور شعور کا اثر دوسری چیزوں پر بھی پڑ سکتا ہے اور انسان کی قوت کشفی کا پر توہ جمادات یا کسی مردہ حیوان پر پڑ کر اس کو بعض مجہولات کے استکشاف کا آلہ بنا سکتا ہے۔چنانچہ قضیہ مذکورہ بالا جس کا آیت مذکورہ بالا میں ذکر ہے اسی قسم میں سے ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۰۳ تا۵۰۶)