تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 194

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۴ یہی ہے کہ ان کی خصلت ان میں آگئی ہے کہ مامور کا انکار کرتے ہیں۔سورة البقرة ( البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخه ۲۷ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۷۴) یہودیوں پر بھی ایک زمانہ ایسا آیا تھا کہ اُن میں نری زبان درازی ہی رہ گئی تھی اور انہوں نے صرف زبان کی باتوں پر ہی کفایت کر لی تھی۔زبان سے تو وہ بہت کچھ کہتے تھے مگر دل میں طرح طرح کے گندے خیالات اور زہریلے مواد بھرے ہوئے تھے یہی وجہ تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر طرح طرح کے عذاب نازل کئے اور ان کو مختلف مصیبتوں میں ڈالا اور ذلیل کیا یہاں تک کہ انہیں سور اور بندر بنایا۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۳) وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادْرَعْتُمْ فِيهَا وَاللهُ مُخْرِجُ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ ج ۷۳ ایک اور و ہم پیش کرتے ہیں کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض مردے زندہ ہو گئے۔جیسے وہ مردہ جس کا خون بنی اسرائیل نے چھپا لیا تھا جس کا ذکر اس آیت میں ہے : وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَاذْرَ تُم فِيهَا وَاللهُ مُخْرج ما كُنتُم تَکتمون۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے قصوں میں قرآن شریف کی کسی عبارت سے نہیں نکلتا کہ فی الحقیقت کوئی مردہ زندہ ہو گیا تھا اور واقعی طور پر کسی قالب میں جان پڑ گئی تھی بلکہ اس آیت پر نظر غور کرنے سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے ایک خون کر کے چھپا دیا تھا اور بعض بعض پر خون کی تہمت لگاتے تھے۔سو خدائے تعالیٰ نے اصل مجرم کے پکڑنے کے لئے یہ تدبیر سمجھائی تھی کہ تم ایک گائے کو ذبح کر کے اس کی بوٹیاں اس لاش پر مارو اور وہ تمام اشخاص جن پر شبہ ہے ان بوٹیوں کو نوبت به نوبت اس لاش پر ماریں۔تب اصل خونی کے ہاتھ سے جب لاش پر بوٹی لگے گی تو لاش سے ایسی حرکات صادر ہوں گی جس سے خونی پکڑا جائے۔اب اس قصہ سے واقعی طور پر لاش کا زندہ ہونا ہر گز ثابت نہیں ہوتا۔بعض کا خیال ہے کہ یہ صرف ایک دھمکی تھی کہ تا چور ہے دل ہو کر اپنے تئیں ظاہر کرے۔لیکن ایسی تاویل سے عالم الغیب کا عجز ظاہر ہوتا ہے اور ایسی تاویلیں وہی لوگ کرتے ہیں کہ جن کو عالم ملکوت کے اسرار سے حصہ نہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق علم عمل الترب یعنی مسمریزم کا ایک شعبہ تھا جس کے بعض خواص میں سے یہ بھی ہے کہ جمادات یا مردہ حیوانات میں ایک حرکت مشابہ بحرکت حیوانات پیدا ہو کر اس سے بعض مشتبہ اور مجہول امور کا پتہ لگ سکتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ کسی سچائی کو ضائع نہ کریں اور ہر ایک وہ حقیقت یا خاصیت جو عین صداقت ہے اس کو