تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 196
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۶ سورة البقرة نیکی کو نیک لوگ اگر ہزار پردوں کے اندر بھی کریں تو خدا نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ اُسے ظاہر کر دے گا اور اسی طرح بدی کا حال ہے۔بلکہ لکھا ہے کہ اگر کوئی عابد زاہد خدا کی عبادت میں مشغول ہو اور اُس صدق اور جوش کا جو اُس کے دل میں ہے انتہا کے نقطہ تک اظہار کر رہا ہو۔اور اتفاقاً کنڈی لگانی بھول گیا ہو تو کوئی اجنبی باہر سے آکر اُس کا دروازہ کھول دے تو اُس کی حالت بالکل وہی ہوتی ہے جو ایک زانی کی عین زنا کے وقت پکڑا جانے سے کیونکہ اصل غرض تو دونوں کی ایک ہی ہے یعنی اخفائے راز۔اگر چہ رنگ الگ الگ ہیں ایک نیکی کو اور دوسرا بدی کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے۔غرض خدا کے بندوں کی حالت تو اس نقطہ تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے نیک بھی چاہتے ہیں کہ ہماری نیکی پوشیدہ رہے اور بد بھی اپنی بدی کو پوشیدہ رکھنے کی دُعا کرتا ہے مگر اس امر میں دونوں نیک و بد کی دُعا قبول نہیں ہوتی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو قانون بنا رکھا ہے کہ وَاللهُ مُخْرج الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحہ ۷ ) ما كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ۔لا و فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذلِكَ يُحْيِ الله الموتى " وَ يُرِيكُم ايته لَعَلَّكُم تَعْقِلُونَ یہ حیات حقیقی کا ثبوت نہیں بلکہ ایک اعجوبہ قدرت کے ثابت ہونے سے دوسری قدرت کی طرف اشارہ ہے۔چنانچہ جا بجا قرآن شریف میں یہی طریق ہے یہاں تک کہ نباتات کے اُگنے کو احیاء موٹی پر دلیل ٹھہرائی گئی ہے اور یہی آیت كَذلِكَ يُخي الله الموتى ان مقامات میں بھی لکھی گئی ہے۔اور یا درکھنا چاہیئے کہ جو قرآن کریم میں چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے کہ ان کو اجزاء متفرقہ یعنی جدا جدا کر کے چار پہاڑیوں پر چھوڑا گیا تھا اور پھر وہ بلانے سے آگئے تھے یہ بھی عمل الترب کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عمل الترب کے تجارب جتلا رہے ہیں کہ انسان میں جمیع کا ئنات الارض کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ایک قوت مقناطیسی ہے اور ممکن ہے کہ انسان کی قوت مقناطیسی اس حد تک ترقی کرے کہ کسی پرند یا چرند کو صرف توجہ سے اپنی طرف اور کھینچ لے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۰۶) وَالَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ أُولَبِكَ اَصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ بہشتیوں کے ہمیشہ بہشت میں رہنے کا جابجاذکر ہے اور سارا قرآن شریف اس سے بھرا پڑا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۱)