تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 192

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۲ سورة البقرة لے اُن نشانوں کی مانند جو بنی اسرائیل کی سرکش قوم کے ڈرانے کے لئے کوہ طور میں دکھلائے گئے تھے جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّور یعنی کوہ طور میں نشان کے طریق پر بڑے بڑے زلزلے آئے اور خدا نے طور کے پہاڑ کو یہود کے سروں پر اس طرح پر لرزاں کر کے دکھلایا کہ گویا اب وہ ان کے سروں پر پڑتا ہے تب وہ اس ہیبت ناک نشان کو دیکھ کر بہت ڈر گئے ۔ اسی طرح مسیح موعود کے زمانہ میں بھی ہوگا۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۸، ۸۹ ) لوگ کہا کرتے تھے کہ خدا نے کس طرح پہاڑ کو بنی اسرائیل کے اوپر کر دیا تھا۔ یہ قصہ صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ اب کانگڑہ ، دھرم سالہ مقامات کے لوگوں نے خوب سمجھ لیا ہوگا کہ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ کس طرح سے ہو سکتا ہے۔ ذرا سے زلزلے میں ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ گویا پہاڑ او پر آ گرا۔ پھر خدا چاہے اس کو پیچھے ہٹا دے یا اوپر گرادے ۔ یہ نیچریت زمانہ کے جہلا کا جواب ہے جو خدا نے زلزلہ کے ذریعہ سے دیا ہے۔ اُمید ہے کہ اس قدر نظارے دیکھ کر بعض خوش قسمت لوگ سمجھ جائیں گے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے احاطہء قدرت میں ہے۔ اور وہ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔ ( بدر جلد ا نمبر ۳ مورخه ۲۰ را پریل ۱۹۰۵ ء صفحه (۲) وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدُوا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَسِينَ اسلام میں صرف وہ قسم تناسخ یعنی اواگون کی باطل اور غلط ٹھہرائی گئی ہے جس میں گذشتہ ارواح کو پھر دنیا کی طرف لوٹا یا جاوے لیکن بجز اس کے اور بعض صورتیں تناسخ یعنی اواگون کی ایسی ہیں کہ اسلام نے ان کو روا رکھا ہے چنانچہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلامی تعلیم سے ثابت ہے کہ ایک شخص جو اس دنیا میں زندہ موجود ہے جب تک وہ تزکیہ نفس کر کے اپنا سلوک تمام نہ کرے اور پاک ریاضتوں سے گندے جذبات اپنے دل میں سے نکال نہ دیوے تب تک وہ کسی نہ کسی حیوان یا کیڑے مکوڑے سے مشابہ ہوتا ہے اور اہل باطن کشفی نظر سے معلوم کر جاتے ہیں کہ وہ اپنے کسی مقام نفس پرستی میں مثلاً بیل سے مشابہ ہوتا ہے یا گدھے سے یا کتے سے یا کسی اور جانور سے اور اسی طرح نفس پرست انسان اسی زندگی میں ایک مجون بدل کر دوسری مجون میں آتا رہتا ہے ایک مجون کی زندگی سے مرتا ہے اور دوسری جون کی زندگی میں جنم لیتا ہے۔ اسی طرح اس زندگی میں ہزار ہا موتیں اس پر آتی ہیں اور ہزار ہا جو نہیں اختیار کرتا ہے اور اخیر پر اگر سعادت مند ہے تو حقیقی طور پر