تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 193

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۹۳ سورة البقرة۔انسان کی مجون اس کو ملتی ہے اسی بناء پر خدا تعالیٰ نے نافرمان یہودیوں کے قصہ میں فرمایا کہ وہ بندر بن گئے اور سور بن گئے سو یہ بات تو نہیں تھی کہ وہ حقیقت میں تناسخ کے طور پر بندر ہو گئے تھے بلکہ اصل حقیقت یہی تھی کہ بندروں اور سؤروں کی طرح نفسانی جذبات ان میں پیدا ہو گئے تھے۔غرض یہ قسم تناسخ کی اسی دنیا کی زندگی کے غیر منقطع سلسلہ میں شروع ہوتی ہے اور اسی میں ختم ہو جاتی ہے اور اس میں مرنا اور جینا اور آنا اور جانا ایک حکمی امر ہوا کرتا ہے نہ واقعی اور حقیقی۔اور دوسری قسم تناسخ کی وہ ہے جو قیامت کے دن دوزخیوں کو پیش آئے گی اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک دوزخی جس گندے جذبہ میں گرفتار ہوگا اسی کے مناسب حال کسی حیوان کی صورت بنا کر اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا مثلاً جو لوگ شکم پرستی کی وجہ سے خدا سے دور پڑ گئے وہ کتوں کی شکل میں کر کے دوزخ میں گرائے جائیں گے اور جو لوگ شہوت کے جماع کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے حکم سے روگردان ہو گئے وہ سوروں کی شکل میں دوزخ میں گرائے جائیں گے۔اور جن لوگوں نے نافرمانی کر کے بہت سے حیوانوں کے ساتھ مشابہت پیدا کر لی تھی وہ بہت سی بجونوں میں پڑیں گے اس طرح پر کہ ایک جون کو ایسی حالت میں ختم کر کے جو موت سے مشابہ ہے دوسری جون کا چولہ پہن لیں گے۔اسی طرح ایک مجون کے بعد دوسری بجون میں آئیں گے اور نہ ایک موت بلکہ ہزاروں موتیں ان پر آئیں گی۔اور وہ موتیں وہی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے شبور کثیر کے لفظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے۔مگر مومنوں پر بجز ایک موت کے جو موتہ اولی ہے اور کوئی موت نہیں آئے گی۔تیسری قسم تناسخ کی جو قرآن میں بیان ہے یہ ہے جو انسانی نطفہ ہزار ہا تغیرات کے بعد پھر نطفہ کی شکل بنتا ہے مثلاً اول گندم کا دانہ ہوتا ہے اور ہزاروں برس اس کی یہ صورت ہوتی ہے کہ زمیندار اس کو زمین میں ہوتا ہے اور وہ سبزہ کی شکل پر ہو کر زمین سے نکلتا ہے آخر دانہ بن جاتا ہے پھر کسی وقت زمیندار اس کو بوتا ہے اور پھر سبزہ بنتا ہے اسی طرح صد ہا سال ایسا ہی ہوتا رہتا ہے اور ہزار ہا قالب میں وہ دانہ آتا ہے یہاں تک کہ اس کے انسان بننے کا وقت آ جاتا ہے تب اس دانہ کو کوئی انسان کھا لیتا ہے اور اس سے انسانی نطفہ بن جاتا ہے۔(ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۰۶ تا ۲۰۸) کتے سے مُراد ایک طماع آدمی جو کہ تھوڑی سی بات پر راضی اور تھوڑی سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں اور بندر سے مراد ایک مسخ شدہ آدمی ہے۔مفسرین سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ مسخ شدہ یہود پر پشم بھی پیدا ہوئی تھی اور ان کی دم بھی نکل آئی تھی بلکہ ان کے عادات مثل بندروں کے ہو گئے تھے۔اس وقت بھی اُمّت مثل یہود کے ہو گئی ہے اس سے مراد