تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 185

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۵ سورة البقرة اور کتاب بحر الجواہر میں لکھا ہے کہ ابوالخیر نام ایک یہودی تھا جو پارسا طبع اور راستباز آدمی تھا اور خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک جانتا تھا۔ایک دفعہ وہ بازار میں چلا جاتا تھا تو ایک مسجد سے اُس کو آواز آئی کہ ایک لڑکا قرآن شریف کی یہ آیت پڑھ رہا تھا:۔الم أحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا أَمَنَا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت : ٣،٣) یعنی کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ یونہی وہ نجات پا جاویں گے صرف اس کلمہ سے کہ ہم ایمان لائے اور ابھی خدا کی راہ میں اُن کا امتحان نہیں کیا گیا کہ کیا ان میں ایمان لانے والوں کی سی استقامت اور صدق اور وفا بھی موجود ہے یا نہیں؟ اس آیت نے ابوالخیر کے دل پر بڑا اثر کیا اور اُس کے دل کو گداز کر دیا۔تب وہ مسجد کی دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر زار زار رو یا۔رات کو حضرت سیدنا و مولا نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی خواب میں آئے اور فرمایا یا اَبَا الْخَيْرِ الْجَبَنِي أَنَّ مِثْلَكَ مَعَ كَمَالٍ فَضْلِكَ يُنْكِرُ بِنَبوّتي - يعنى اے ابوالخیر ! مجھے تعجب آیا کہ تیرے جیسا انسان با وجود اپنے کمال فضل اور بزرگی کے میری نبوت سے انکار کرے۔پس صبح ہوتے ہی ابوالخیر مسلمان ہو گیا اور اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔خلاصہ یہ کہ میں اس بات کو بالکل سمجھ نہیں سکتا کہ ایک شخص خدا تعالیٰ پر ایمان لاوے اور اُس کو واحد لاشریک سمجھے اور خدا اُس کو دوزخ سے تو نجات دے مگر نا بینائی سے نجات نہ دے حالانکہ نجات کی جڑھ معرفت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ كَانَ فِي هذة أعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى وَ أَضَلُّ سبيلا (بنی اسرائیل : ۷۳) یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا یا اس سے بھی بدتر۔یہ بات بالکل سچ ہے کہ جس نے خدا کے رسولوں کو شناخت نہیں کیا اُس نے خدا کو بھی شناخت نہیں کیا۔خدا کے چہرے کا آئینہ اُس کے رسول ہیں۔ہر ایک جو خدا کو دیکھتا ہے اسی آئینہ کے ذریعہ سے دیکھتا ہے۔پس یہ کس قسم کی نجات ہے کہ ایک شخص دنیا میں تمام عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب اور منکر رہا اور قرآن شریف سے انکاری رہا اور خدا تعالیٰ نے اُس کو آنکھیں نہ بخشیں اور دل نہ دیا اور وہ اندھا ہی رہا اور اندھا ہی مر گیا اور پھر نجات بھی پا گیا۔یہ عجیب نجات ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ پاگ خدا تعالیٰ جس شخص پر رحمت کرنا چاہتا ہے پہلے اُس کو آنکھیں بخشتا ہے اور اپنی طرف سے اُس کو علم عطا کرتا ہے۔صد ہا آدمی ہمارے سلسلہ میں ایسے ہوں گے کہ وہ محض خواب یا الہام کے ذریعہ سے ہماری جماعت میں داخل ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذات وسیع الرحمت ہے اگر کوئی ایک قدم اس کی طرف آتا