تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 184

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۴ سورة البقرة کرے گا اور حق اُس پر کھول دے گا اور ر اور است اُسکو دکھائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : ٧٠) پس اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالی پر ایمان لانے والا ضائع نہیں کیا جاتا آخر اللہ تعالیٰ پوری ہدایت اُس کو کر دیتا ہے چنانچہ صوفیوں نے صدہا مثالیں اس کی لکھی ہیں کہ بعض غیر قوم کے لوگ جب کمال اخلاص سے خدا تعالی پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ میں مشغول ہوئے تو خدا تعالیٰ نے اُن کو اُن کے اخلاص کا یہ بدلہ دیا کہ اُن کی آنکھیں کھول دیں اور خاص اپنی دستگیری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اُن پر ظاہر کر دی۔یہی معنی اس آیت کے آخری فقرہ کے ہیں فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ خدا تعالیٰ کا اجر جب تک دنیا میں ظاہر نہیں ہو تا آخرت میں بھی ظاہر نہیں ہوتا۔پس دنیا میں خدا پر ایمان لانے کا یہ اجر ملتا ہے کہ ایسے شخص کو خدا تعالیٰ پوری ہدایت بخشتا ہے اور ضائع نہیں کرتا۔اسی کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے۔وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الكتب الاليُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (النساء :۱۶۰) یعنی وہ لوگ جو در حقیقت اہل کتاب ہیں اور سچے دل سے خدا پر اور اُس کی کتابوں پر ایمان لاتے اور عمل کرتے ہیں وہ آخر کار اس نبی پر ایمان لے آئیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ہاں خبیث آدمی جن کو اہلِ کتاب نہیں کہنا چاہئیے وہ ایمان نہیں لاتے۔ایسا ہی سوانح اسلام میں اس کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کریم ورحیم ہے اگر کوئی ایک ذرہ بھی نیکی کرے تب بھی اُس کی جزا میں اسلام میں اُس کو داخل کر دیتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ کسی صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میں نے کفر کی حالت میں محض خدا تعالیٰ کے خوش کرنے کے لئے بہت کچھ مال مساکین کو دیا تھا۔کیا اس کا ثواب بھی مجھے کو ہوگا۔تو آپ نے فرمایا کہ وہی صدقات ہیں جو تجھ کو اسلام کی طرف کھینچ لائے۔پس اسی طرح جو شخص کسی غیر مذہب میں خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک جانتا ہے اور اُس سے محبت کرتا ہے تو خدا تعالیٰ بموجب آیت فَلهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ آخر اس کو اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔یہی معاملہ باوانا تک کو پیش آیا۔جب اُس نے بڑے اخلاص سے بت پرستی کو چھوڑ کر تو حید کو اختیار کیا اور خدا تعالیٰ سے محبت کی تو وہی خدا جس نے آیت ممدوحہ بالا میں فرمایا ہے: فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ اُس پر ظاہر ہوا اور اپنے الہام سے اسلام کی طرف اُس کو رہبری کی تب وہ مسلمان ہو گیا اور حج بھی کیا۔