تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 186

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام JAY سورة البقرة ہے تو وہ دو قدم آتا ہے۔اور جو شخص اُس کی طرف جلدی سے چلتا ہے تو وہ اُس کی طرف دوڑ تا آتا ہے اور نابینا کی آنکھیں کھولتا ہے۔پھر کیوں کر قبول کیا جائے کہ ایک شخص اُس کی ذات پر ایمان لایا اور سچے دل سے اُس کو وحدہ لاشریک سمجھا اور اُس سے محبت کی اور اس کے اولیاء میں داخل ہوا۔پھر خدا نے اُس کو نابینا رکھا اور ایسا اندھا رہا کہ خدا کے نبی کو شناخت نہ کر سکا۔اسی کی مؤید یہ حدیث ہے کہ مَنْ مَّاتَ وَلَمْ يَعْرِفُ إِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ یعنی جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیت کی موت پر مر گیا اور صراط مستقیم سے بے نصیب رہا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۴ تا ۱۵۱) اگر چہ ہمارا ایمان ہے کہ نری خشک توحید مدار نجات نہیں ہو سکتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے علیحدہ ہو کر کوئی عمل کرنا انسان کو ناجی نہیں بنا سکتا لیکن طمانیت قلب کے لئے عرض پرداز ہیں کہ عبد الحکیم خان نے جو آیات لکھی ہیں ان کا کیا مطلب ہے مثلاً إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِيْنَ هَادُوا وَ النَّصْرِى وَالطَّبِينَ مَنْ أمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ الجواب:۔واضح ہو کہ قرآن شریف میں ان آیات کے ذکر کرنے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر اس کے جو رسول پر ایمان لایا جائے نجات ہو سکتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ خدائے واحد لاشریک اور یوم آخرت پر ایمان لایا جاوے نجات نہیں ہو سکتی اور اللہ پر پورا ایمان تبھی ہوسکتا ہے کہ اُس کے رسولوں پر ایمان لاوے۔وجہ یہ کہ وہ اس کی صفات کے مظہر ہیں اور کسی چیز کا وجود بغیر وجود اُس کی صفات کے بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔لہذا بغیر علم صفات باری تعالیٰ کے معرفت باری تعالی ناقص رہ جاتی ہے کیونکہ مثلاً یہ صفات اللہ تعالیٰ کے کہ وہ بولتا ہے، سنتا ہے، پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے، رحمت یا عذاب کرنے پر قدرت رکھتا ہے بغیر اس کے کہ رسول کے ذریعہ سے اُن کا پتہ لگے کیوں کر اُن پر یقین آ سکتا ہے اور اگر یہ صفات مشاہدہ کے رنگ میں ثابت نہ ہوں تو خدا تعالیٰ کا وجود ہی ثابت نہیں ہوتا تو اس صورت میں اس پر ایمان لانے کے کیا معنی ہوں گے اور جو شخص خدا پر ایمان لاوے ضرور ہے کہ اُس کے صفات پر بھی ایمان لاوے اور یہ ایمان اُس کو نبیوں پر ایمان لانے کے لئے مجبور کرے گا کیونکہ مثلاً خدا کا کلام کرنا اور بولنا بغیر ثبوت خدا کی کلام کے کیوں کر سمجھ آ سکتا ہے اور اس کلام کو پیش کرنے والے مع اس کے ثبوت کے صرف نبی ہیں۔پھر یہ بھی واضح ہو کہ قرآن شریف میں دو قسم کی آیات ہیں ایک محکمات اور بینات جیسا کہ یہ آیت إِنَّ الَّذِينَ