تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 3
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳ سورة البقرة کہ جس قدر لوگ ( خدا کے علم میں ) ایمان لانے والے ہیں وہ اگر چہ ہنوز مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے پر آہستہ آہستہ سب شامل ہو جائیں گے اور وہی لوگ باہر رہ جائیں گے جن کو خدا خوب جانتا ہے کہ طریقہ حقہ اسلام قبول نہیں کریں گے اور گو ان کو نصیحت کی جائے یا نہ کی جائے ایمان نہیں لائیں گے یا مراتب کاملہ تقوی و معرفت تک نہیں پہنچیں گے غرض ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے کھول کر بتلا دیا کہ ہدایت قرآنی سے صرف متقی منتفع ہو سکتے ہیں جن کی اصل فطرت میں غلبہ کسی ظلمت نفسانی کا نہیں اور یہ ہدایت ان تک ضرور پہنچ رہے گی ۔ لیکن جو لوگ متقی نہیں ہیں۔ نہ وہ ہدایت قرآنی سے کچھ نفع اٹھاتے ہیں اور نہ یہ ضرور ہے که خواه نخواہ ان تک ہدایت پہنچ جائے ۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۰۰ تا ۲۰۲ حاشیہ نمبر ۱۱) جب تک کسی کتاب کے عِللِ اربعہ کامل نہ ہوں وہ کتاب کامل نہیں کہلا سکتی اس لئے خدا تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن شریف کے عِللِ اربعہ کا ذکر فرما دیا ہے اور وہ چار ہیں (۱) علت فاعلی (۲) عِدَّتِ مادی (۳) عِلَّتِ صوری (۴) عِلَّتِ غائی ۔ اور ہر چہار کامل درجہ پر ہیں ۔ پس الله علت فاعلی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے معنی ہیں : انا اللهُ اَعْلَمُ یعنی کہ میں جو خدائے عالم الغیب ہوں میں نے اس کتاب کو اُتارا ہے پس چونکہ خدا اس کتاب کی علینا علی ہے اس لئے اس کتاب کا فاعل ہر ایک فاعل سے زبردست اور کامل ہے اور عِدَّتِ مادی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ کہ ذلِكَ الْكِتب یعنی یہ وہ کتاب ہے جس نے خدا کے علم سے خلعت وجود پہنا ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کا علم تمام علوم سے کامل تر ہے اور عِلتِ صوری کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ لا رَيْبَ فِيهِ یعنی یہ کتاب ہر ایک غلطی اور شک وشبہ سے پاک ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ جو کتاب خدا تعالیٰ کے علم سے نکلی ہے وہ اپنی صحت اور ہر ایک عیب سے مبرا ہونے میں بے مثل و بے مانند ہے اور لاریب ہونے میں اکمل اور اتم ہے اور علتِ غائی کے کمال کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ فقرہ کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی یہ کتاب ہدایت کامل متقین کے لئے ہے اور جہاں تک انسانی سرشت کے لئے زیادہ سے زیادہ ہدایت ہو سکے وہ اس کتاب کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔ ( حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۶ ، ۱۳۷ حاشیه ) اللہ جل شانہ نے قرآن کریم کے نزول کی عِدَّتِ عالَى هُدًى لِلْمُتَّقِينَ قرار دی ہے اور قرآن کریم سے رشد اور ہدایت اور فیض حاصل کرنے والے با تخصیص متقیوں کو ہی ٹھہرایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ اللہ ذلِك