تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 4
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الكتب لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ - سورة البقرة (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۰،۱۳۹) جس شخص کو ایک ذرہ ہی بصیرت بھی حاصل ہے۔وہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب سلسلہ تحقیق اور تدقیق کا اس حد تک پہنچ جائے کہ حقیقت واقعی بکلی منکشف ہو جائے اور چاروں طرف سے دلائل واضحہ اور شواہد قاطعہ آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نکل آدیں تو امر تنقیح اور تفتیش کا وہیں ختم ہو جاتا ہے اور طالب حق کو اسی جگہ مضبوطی سے قدم مارنا پڑتا ہے اور انسان کو بجز ماننے اس کے کے کچھ بن نہیں پڑتا اور خود ظاہر ہے کہ جب مکمل ثبوت ہاتھ میں آ گیا اور ہر ایک گوشہ امر مبحوث عنہ کا صبح صادق کی طرح کھل گیا اور حق الامر کا چہرہ بکمال صفائی نمودار ہو گیا تو پھر کیوں دانشمند اور صحیح الحواس انسان اس میں شک کرے۔اور کیا وجہ کہ سلیم العقل انسان کا دل پھر بھی اس پر تسلی نہ پکڑے۔ہاں! جب تک امکان غلطی باقی ہے اور بصفائی تمام انکشاف نہیں ہوا تب تک غور اور فکر کا گھوڑا آگے سے آگے دوڑ سکتا ہے اور نظر ثانی در نظر ثانی ہو سکتی ہے نہ یہ کہ ثابت شدہ صداقت میں بھی وہمیوں کی طرح شک کر کے بیہودہ وساوس میں پڑتے جائیں اس کا نام خیالات کی ترقی نہیں یہ تو مادہ سودا کی ترقی ہے۔جس شخص پر ایک امر کے جواز یا عدم جواز کی نسبت حال واقعی اظهَرُ مِنَ الشمس ہو گیا تو پھر کیا وہ مد ہوش یا دیوانہ ہے کہ با وصف اس انکشاف تام کے پھر بھی اپنے دل میں یہ سوال کرے کہ شاید جس امر کو میں ناجائز سمجھتا ہوں وہ جائز ہی ہو یا جس کو میں جائز قرار دیتا ہوں وہ حقیقت میں نا جائز ہو۔البتہ ایسے سوالات اس وقت پیش آسکتے تھے اور ایسے وساوس اس حالت میں دلوں میں اٹھ سکتے تھے کہ جب سارا مدار قیاسات عقلیہ پر ہوتا اور عقل انسانی برہمو سماج والوں کی عقل کی طرح اپنے دوسرے رفیق کے اتفاق اور اشتمال سے محروم اور بے نصیب ہوتی لیکن الہام حقیقی کے تابعین کی عقل ایسی غریب اور بے کس نہیں بلکہ اس کا ممد و معاون خدا کا کلام کامل ہے جو سلسلہ تحقیقات کو اپنے مرکز اصلی تک پہنچاتا ہے اور وہ مرتبہ یقین اور معرفت کا بخشتا ہے کہ جس کے آگے قدم رکھنے کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ ایک طرف تو دلائل عقلیہ کو باستیفا بیان کرتا ہے اور دوسری طرف خود وہ بے مثل و مانند ہونے کی وجہ سے خدا اور اس کی ہدایتوں پر یقین لانے کے لئے محبت قاطعہ ہے۔سو اس دوہرے ثبوت سے جس قدر طالب حق کو مرتبہ حق الیقین حاصل ہوتا ہے اس مرتبہ کا قدر وہی شخص جانتا ہے کہ جو کچے دل سے خدا کو ڈھونڈتا ہے اور وہی اس کو چاہتا ہے کہ جو روح کی سچائی سے خدا کا طالب ہے لیکن برہمو سماج والے جن کا یہ اصول ہے کہ ایسی کوئی کتاب یا ایسا کوئی انسان نہیں جس میں غلطی کا امکان نہ ہو کیوں کر اس مرتبہ یقین تک پہنچ سکتے ہیں جب تک