تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 2

سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن شریف کے نزول کی علت فاعلی بیان کی اور اس کی عظمت اور بزرگی کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا اللہ میں خدا ہوں جو سب سے زیادہ جانتا ہوں۔یعنی نازل کنندہ اس کتاب کا میں ہوں جو علیم و حکیم ہوں جس کے علم کے برابر کسی کا علم نہیں پھر بعد اس کے علت مادی قرآن کے بیان میں فرمائی اور اس کی عظمت کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا ذلك الكتب وہ کتاب ہے یعنی ایسی عظیم الشان اور عالی مرتبت کتاب ہے جس کی علت مادی علم الہی ہے یعنی جس کی نسبت ثابت ہے کہ اس کا منبع اور چشمہ ذات قدیم حضرت حلیم مطلق ہے اس جگہ اللہ تعالیٰ نے وہ کا لفظ اختیار کرنے سے جو بعد اور دوری کے لئے آتا ہے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ کتاب اس ذات عالی صفات کے علم سے ظہور پذیر ہے جو اپنی ذات میں بے مثل و مانند ہے جس کے علوم کا ملہ واسرار دقیقہ نظر انسانی کی حد جولان سے بہت بعید اور دور ہیں۔پھر بعد اس کے علت صوری کا قابل تعریف ہونا ظاہر فرمایا اور کہالا ريبَ فِيهِ یعنی قرآن اپنی ذات میں ایسی صورت مدلل و معقول پر واقعہ ہے کہ کسی نوع کے شرک کرنے کی اس میں گنجائش نہیں یعنی وہ دوسری کتابوں کی طرح بطور کتھا اور کہانی کے نہیں بلکہ ادلہ یقینیہ و براہین قطعیہ بینہ اور دلائل شافیہ بیان کرتا مشتمل ہے اور اپنے مطالب پر ہے اور فی نفسہ ایک معجزہ ہے جو شکوک اور شبہات کے دور کرنے میں سیف قاطع کا حکم رکھتا ہے۔اور خداشناسی کے بارہ میں صرف ہونا چاہیئے کے خلقی مرتبہ میں نہیں چھوڑتا بلکہ ہے کے یقینی اور قطعی مرتبہ تک پہنچاتا ہے یہ تو علل ثلاثہ کی عظمت کا بیان فرمایا اور پھر باوجود عظیم الشان ہونے ان ہر سہ علتوں کے جن کو تاثیر اور اصلاح میں دخل عظیم ہے علت رابعہ یعنی علت غائی نزول قرآن شریف کو جو رہنمائی اور ہدایت ہے صرف متقین میں منحصر کر دیا اور فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی یہ کتاب صرف ان جو ہر قابلہ کی ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے جو بوجہ پاک باطنی و عقل سلیم و هم مستقیم وشوق طلب حق و نیت صحیح انجام کار درجه ایمان و خداشناسی و تقوی کامل پر پہنچ جائیں گے یعنی جن کو خدا اپنے علم قدیم سے جانتا ہے کہ ان کی فطرت اس ہدایت کے مناسب حال واقعہ ہے اور وہ معارف حقانی میں ترقی کر سکتے ہیں وہ بالآخر اس کتاب سے ہدایت پا جائیں گے اور بہر حال یہ کتاب ان کو پہنچ رہے گی اور قبل اس کے جو وہ مریں خدا ان کو راہ راست پر آنے کی توفیق دے دے گا۔اب دیکھو اس جگہ خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے علم میں ہدایت پانے کے لائق ہیں اور اپنی اصل فطرت میں صفت تقویٰ سے متصف ہیں وہ ضرور ہدایت پا جائیں گے اور پھر ان آیات میں جو اس آیت کے بعد میں لکھی گئی ہیں اسی کی زیادہ تر تفصیل کر دی اور فرمایا