تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 178

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام IZA اندر یہ خیفی اسرار ہیں اور پستہ ملتا ہے کہ یہودی قوم کے اطوار بگڑ جاویں گے۔سورة البقرة الحکم جلد ۴ نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ /اپریل ۱۹۰۰ صفحه ۶) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کیا کم تھے ؟ کیا بنی اسرائیل نے کھلے کھلے نشانات نہ دیکھے تھے مگر بتاؤان میں وہ تقویٰ ، وہ خدا ترسی اور نیکی جو حضرت موسیٰ چاہتے تھے کامل طور پر پیدا ہوئی آخر ضربت عَلَيْهِمُ الله وَالمَسْكَنَةُ کے مصداق وہ قوم ہوگئی۔(الحکم نمبر ۳۱ جلد ۶ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۲) اس نبی کو جس کی اُمت کا خاتمہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ وَالمَسْكَنَةُ پر ہوا ہے اس کو زندہ کہا جاتا ہے حضرت عیسی کی قوم یہودی تھی اور اُس کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ - اب قیامت تک ان کو عزت نہ ملے گی۔اب اگر حضرت عیسی پھر آگئے تو پھر گویا اُن کی کھوئی ہوئی عزت بحال ہو گئی اور قرآن شریف کا یہ حکم باطل ہو گیا جس پہلو اور حیثیت سے دیکھو جو کچھ وہ مانتے ہیں اس پہلو سے قرآن کریم کا ابطال اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین لازم آتی ہے۔پھر تعجب ہے کہ یہ لوگ مسلمان کہلا کر ایسے اعتقادات رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو یہود کے لئے فتویٰ دیتا ہے کہ ان میں نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور وہ ذلیل ہو گئے پھر ان میں زندہ نبی کیسے آسکتا ہے؟ (الحاکم جلد ۷ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۳ صفحه ۲) بنی اسرائیل جن میں کثرت سے نبی اور رسول آئے۔اور خدا تعالیٰ کے عظیم الشان فضلوں کے وہ وارث اور حقدار ٹھہرائے گئے تھے۔لیکن جب اس کی روحانی حالت بگڑی اور اس نے راہ مستقیم کو چھوڑ دیا سرکشی اور فسق و فجور کو اختیار کیا نتیجہ کیا ہوا؟ وہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ کی مصداق ہوئی خدا تعالی کا غضب اُن پر ٹوٹ پڑا اور ان کا نام سور اور بندر رکھا گیا۔یہاں تک وہ گر گئے کہ انسانیت سے بھی اُن کو خارج کیا گیا۔یہ کس قدر عبرت کا مقام ہے۔بنی اسرائیل کی حالت ہر وقت ایک مفید سبق ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۳) اگر یہودی ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الله کے مصداق ہو چکے ہیں اور نبوت اس خاندان سے منتقل ہو چکی ہے تو پھر یہ ناممکن ہے کہ مسیح دوبارہ اسی خاندان سے آوے؟ اگر یہ تسلیم کیا جاوے گا تو اس کا نتیجہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ادنی نبی مانا جاوے اور اس اُمت کو بھی ادنی امت حالانکہ یہ قرآن شریف کے منشاء کے صریح خلاف ہے۔انتقام جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۵) آیت جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَة کو غور سے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آیت ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ اللَّهُ وَالمَسْكَنَةُ کی سزا بھی حضرت مسیح کی ایڈا کی وجہ سے ہی یہود کو دی گئی ہے۔