تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 177
122 سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام اُمت کے علماء نے اس زمانہ کے یہودیوں کے قدموں پر قدم مارا ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے اور نہ صرف اسی بات میں وہ اس وقت کے یہودیوں کے مشابہ ہو گئے ہیں کہ دیانت اور تقویٰ اور روحانیت اور حقیقت شناسی اُن میں باقی نہیں رہی بلکہ دنیوی او بار بھی ویسا ہی شامل حال ہو گیا ہے کہ جیسا اس زمانہ میں تھا اور جیسا کہ اس وقت یہود سید ریاستوں کو رومی ملوک نے تباہ کر دیا تھا اور ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ کا مصداق ہو گئے تھے اور یہودی اپنے تئیں ضعیف اور بے کس دیکھ کر ایک ایسے مسیح کے منتظر تھے جو بادشاہ ہو کر آوے اور رومیوں پر تلوار چلا دے کیونکہ توریت کے آخر میں یہی وعدہ دیا گیا تھا ویسا ہی یہ قوم مسلمان بھی اکثر اور اغلب طور پر ادبار کی حالت میں گری ہوئی نظر آتی ہے اگر کوئی ریاست ہے تو اس کو اندرونی نفاقوں اور وزراء اور عملہ کی خیانتوں اور بادشاہوں کے کسل اور مستیوں اور جہالتوں اور بے خبریوں اور عیش پسندیوں اور آرام طلبیوں نے ایسا کمزور کر دیا ہے کہ اب ان کا کوئی آخری دم ہی نظر آتا ہے اور یہ لوگ بھی یہودیوں کی طرح منتظر تھے کہ مسیح موعود بادشاہوں کی طرح بڑے جلال کے ساتھ ان کی حمایت کے لئے نازل ہوگا۔شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۸،۳۵۷) یہودی بھی تو پیغمبر زادے ہیں۔کیا صدہا پیغمبر اُن میں نہیں آئے تھے مگر اس پیغمبر زادگی نے ان کو کیا فائدہ پہنچایا۔اگر ان کے اعمال اچھے ہوتے تو وہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ کے مصداق کیوں ہوتے۔خدا تعالیٰ تو ایک پاک تبدیلی کو چاہتا ہے بعض اوقات انسان کو تکبر نسب بھی نیکیوں سے محروم کر دیتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں اسی سے نجات پالوں گا جو بالکل خیال خام ہے۔کبیر کہتا ہے کہ اچھا ہوا ہم نے چماروں کے گھر جنم لیا۔سکتے۔کبیر اچھا ہوا ہم پیچ بھلے سب کو کر میں سلام کریں خدا تعالیٰ وفاداری اور صدق کو پیار کرتا ہے اور اعمال صالحہ کو چاہتا ہے لاف و گزاف اسے راضی نہیں کر الحکم جلد ۸ نمبر ۲۶،۲۵ مورخه ۳۱ جولائی و ۱۰ راگست ۱۹۰۴ صفحه ۱۳) یہودی بیچارے خود ضربَتْ عَلَيْهِمُ الذلة کے مصداق اُن کی وہ حالت تھی کہ صورت ہیں حالش مپرس دنیا پرستی کے سوا کچھ جانتے ہی نہیں۔۔۔۔یہودیوں نے کھانے پینے کے سوا اور کوئی مقصود ہی نہیں رکھا۔خدا کی قدرت ہے جب ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ اللله کی حالت آئی تو وہ افعال بھی آگئے جو ذلت کے جالب اور ذلت کے نتائج تھے اگر وہ تائب ہو جاتے تو پھر ضربت کیونکر صادق آتا۔۔۔۔۔۔۔یہودیوں کی زندگی اگر نا پاکیوں کا مجموعہ نہ تھی تو پھر ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الله کی ماران پر کیوں کر پڑتی۔اس پر خوب غور کرو اس کے