تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 179

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۹ سورة البقرة کیونکہ آیت موصوفہ بالا میں یہود کے لئے یہ دائی وعید ہے کہ وہ ہمیشہ محکومیت میں جو ہر ایک عذاب اور ذلت کی جڑ ہے زندگی بسر کریں گے جیسا کہ اب تک یہود کی ذلت کے حالات کو دیکھ کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب تک خدا تعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اُتر ا جو اس وقت بھڑ کا تھا۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۰۰،۱۹۹) أَمَّا قَوْلُ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ أَنَّ الشَّجَالَ يَكُونُ اور بعض علماء کا یہ کہنا کہ دجال یہودی ہوگا یہ پہلی مِنْ قَوْمِ الْيَهُودِ فَهَذَا الْقَوْلُ أَعْجَبُ مِنَ الْقَوْلِ بات سے بھی زیادہ تعجب انگیز ہے۔کیا وہ قرآن کی الْأَوَّلِ لَا يَقْرَأُوْنَ فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ یہ آیت نہیں پڑھتے کہ ان پر ذلت اور خواری کا سکہ اللّهُ وَالْمَسْكَتَهُ فَالَّذِينَ ضَرَبَ اللهُ عَلَيْهِمْ لگایا گیا ہے۔پس جن یہود پر کہ خدا نے قیامت إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كُلَّ ذِلَّةٍ ، وَأَخْبَرَ في كِتَابِه تک کامل ذلّت مسلط کر دی ہے اور اپنی کامل اور الْعَامِلِ الْمُحْكَمِ أَنَّ الْيَهُودَ يَعِيشُونَ دَائما محکم کتاب میں بتا دیا ہے کہ وہ ہمیشہ کسی اور بادشاہ تَحْتَ مَلِكٍ مِنَ الْمُلُوكِ صَاغِرِينَ مَقْهُورِينَ وَلَا کے نیچے ذلیل اور خوار رہیں گے اور کبھی اُن کا ملک يَكُونُ لَهُمْ مُلْكُ إِلَى الْأَبَدِ، كَيْفَ يَخْرُجُ مِنْهُمُ نہ ہوگا ان سے وہ دجال کہاں پیدا ہوسکتا ہے جو الدَّجَّالُ وَيَمْلِكُ الْأَرْضَ كُلَّهَا أَلَا إِنَّ كَلِمَاتِ سب روئے زمین کا مالک ہو جاوے۔اصل بات تو اللَّهِ صَادِقَةٌ لَا تَبْدِيلَ لَهَا، وَلَكِنَّ الْقَوْمَ مَا یہ ہے کہ خدا کی باتیں سچی اور اٹل ہیں لیکن ہماری عَلِمُوا مَعَالِي الْأَحَادِيثِ وَمَا فَهِمُوهَا حَقٌّ قوم نے احادیث کے معنے پورے طور پر نہیں سمجھے فَهْمِهَا، وَاللهُ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ اور خدا جس پر اپنا فضل کرتا ہے اس کو وہ باتیں جتا فَيُفَقِمُهُ مَا لَمْ يُفَهِمْ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ دیتا ہے جو اوروں پر پوشیدہ رکھتا ہے۔( ترجمه از مرتب) حمامة البشری ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۹۵ حاشیه ) اتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ ادْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اور ادنی کو اعلیٰ کے عوض میں ترک کرتے ہو۔نطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۹۴) يَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ توریت میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جاوے گا اس کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر قرآن کی نص صریح سے پایا جاوے یا حدیث کے تواتر سے ثابت ہو کہ نبی قتل ہوتے رہے ہیں تو پھر ہم کو اس سے انکار نہیں کرنا پڑے گا۔بہر حال یہ کچھ ایسی بات نہیں کہ نبی کی شان میں خلل انداز ہو کیونکہ قتل بھی شہادت ہوتی ہے۔مگر ہاں