تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 166
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۶ سورة البقرة اتَأمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُونَ الكتب اَفَلَا تَعْقِلُونَ۔نیک آدمیوں کی یہی نشانی ہے کہ وہ ایسی نصیحت کسی دوسرے کو ہرگز نہیں دیتے جس کے آپ پابند نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آتَامُرُونَ النَّاسَ بِالْبِر وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُم کیا تم لوگوں کو نیک باتوں کے لئے نصیحت کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھلا دیتے ہو یعنی آپ ان نیک باتوں پر عمل نہیں کرتے۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۰۵) حقیقت میں اس امر کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ انسان کا قول اور فعل با ہم ایک مطابقت رکھتے ہوں اگر ان میں مطابقت نہیں تو کچھ بھی نہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : أَتَا مُرُونَ النَّاسَ بِالبِر وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ یعنی تم لوگوں کو تو نیکی کا امر کرتے ہو۔مگر اپنے آپ کو اس امریکی کا مخاطب نہیں بناتے بلکہ بھول جاتے ہو۔القام جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ مئی ۱۹۰۵ صفحه ۲) جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے اگر خدا راضی نہ ہو تو گویا یہ برباد ہو گیا۔پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تو اسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے : أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ۔اس کا یہی مطلب ہے کہ اپنے نفس کو فراموش کر کے دوسرے کے عیوب کو نہ دیکھتا رہے بلکہ چاہئے کہ اپنے عیوب کو دیکھے چونکہ خود تو وہ پابند ان امور کا نہیں ہوتا اس لئے آخر کار لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ کا مصداق ہو جاتا ہے۔اخلاص اور محبت سے کسی کو نصیحت کرنی بہت مشکل ہے لیکن بعض وقت نصیحت کرنے میں بھی ایک پوشیدہ بغض اور کبر ملا ہوا ہوتا ہے اگر خالص محبت سے وہ نصیحت کرتے ہوتے تو خدا ان کو اس آیت کے نیچے نہ لاتا بڑا اسعید وہ ہے جواوّل اپنے عیوب کو دیکھے۔ان کا پتہ اس وقت لگتا ہے جب ہمیشہ امتحان لیتا رہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخہ ۸ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۷) وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلا عَلَى الْخَشِعِينَ صبر اور صلوۃ کے ساتھ اس سے مدد چاہو۔کیونکہ نیکیوں سے بدیاں دور ہو جاتی ہیں۔براتان احمد یه چهار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۰۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳)