تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 165

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ܬܪܙ سورة البقرة ایک صاحب نے دریافت کیا کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت ساحصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے اورا گراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکوۃ ہے یا نہیں۔فرمایا جو مال معلق ہے اس پر زکوۃ نہیں جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آ جائے لیکن تاجر کو چاہئے کہ حیلہ بہانے سے زکوۃ کو نہ ٹال دے۔آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر نگاہ ڈالے اور مناسب زکوۃ دے کر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔بعض لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں۔یہ درست نہیں ہے۔( بدرجلد ۶ نمبر ۲۸ مورخ ۱۱/ جولائی ۱۹۰۷ صفحه ۵) بہت سے لوگ زکوۃ دے دیتے ہیں مگر وہ اتنا بھی نہیں سوچتے اور سمجھتے کہ یہ کس کی زکوۃ ہے؟ اگر کتے کو ذبح کر دیا جاوے یا سور کو ذبح کر ڈالو تو وہ صرف ذبح کرنے سے حلال نہیں ہو جائے گا۔زکوۃ تزکیہ سے نکلی ہے مال کو پاک کرو۔اور پھر اس میں سے زکوۃ دو۔جو اس میں سے دیتا ہے۔اس کا صدق قائم ہے لیکن جو حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا وہ اس کے اصل مفہوم سے دور پڑا ہوا ہے اس قسم کی غلطیوں سے دست بردار ہونا چاہئے اور ان ارکان کی حقیقت کو بخوبی سمجھ لینا چاہئے تب یہ ارکان نجات دیتے ہیں ورنہ نہیں اور انسان کہیں کا کہیں چلا جاتا ہے یقیناً سمجھو کہ فخر کرنے کی کوئی چیز نہیں ہے اور خدا تعالیٰ کا کوئی انفسی یا آفاقی شریک نہ ٹھہراؤ اور اعمال صالحہ بجالاؤ۔مال سے محبت نہ کرو۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۹) اگر میری جماعت میں ایسے احباب ہوں جو اُن پر بوجہ املاک و اموال وزیورات وغیرہ کے زکوۃ فرض ہو تو اُن کو سمجھنا چاہئے کہ اس وقت دین اسلام جیسا غریب اور یتیم اور بے کس کوئی بھی نہیں اور زکوۃ نہ دینے میں جس قدر تہدید شرع وارد ہے وہ بھی ظاہر ہے۔اور عنقریب ہے جو منکر زکوۃ کا فر ہو جائے۔پس فرض عین ہے جو اسی راہ میں اعانت اسلام میں زکوۃ دی جاوے۔زکوۃ میں کتابیں خریدی جائیں اور مفت تقسیم کی مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۲۶۷) جائیں۔زیورات کی نسبت جو آپ نے دریافت کیا ہے یہ اختلافی مسئلہ ہے۔مگر اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ جوز یور مستعمل ہو اُس کی زکوۃ نہیں ہے۔مگر بہتر ہے کہ دوسرے کو عار بیتا کبھی دید یا کریں مثلاً دو تین روز کے لئے کسی عورت کو اگر عاریتا سینے کے لئے دے دیا جائے تو پھر بالا تفاق ساقط ہو جاتی ہے۔( مکتوبات جلد نمبر ۵ صفحه ۵۵ مکتوب ۵ نمبر ۱۳ بنام منشی حبیب الرحمان صاحب)