تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 163
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھٹکھٹائے گی۔۱۶۳ سورة البقرة الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۳) يبَنِي إِسْرَاءِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُونِ بِعَهْدِكُمْ وَ إِيَّايَ فَارْهَبُونِ بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کا دیا ہوا لقب ہے اسرائیل کے معنے ہیں جو خدا سے بے وفائی نہیں کرتے اس کی اطاعت اور محبت کے رشتہ میں منسلک قوم۔حقیقی اور اصلی طور پر اسلام کے یہی معنے ہیں بہت سی پیشگوئیوں میں جو اسرائیل کا نام رکھا ہے۔یہ قلت فہم کی وجہ سے لوگوں کو سمجھ نہیں آئی ہیں اسرائیل سے مراد اسلام ہی ہے اور وہ پیشگوئیاں اسلام کے حق میں ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۷) کسی قوم موجودہ کو مخاطب کرنے سے ہر گز یہ لازم نہیں آتا کہ وہ خطاب قوم موجودہ تک ہی محدود ر ہے بلکہ قرآن کریم کا تو یہ بھی محاورہ پایا جاتا ہے کہ بسا اوقات ایک قوم کو مخاطب کرتا ہے مگر اصل مخاطب کوئی اور لوگ ہوتے ہیں جو گزر گئے یا آئندہ آنے والے ہیں مثلاً اللہ جل شانہ سورۃ البقرہ میں یہود موجودہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: لبنی اسراءیلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِى أَوْفِ بِعَهْدِكُمْ وَايَايَ فَارهَبُونِ یعنی اے بنی اسرائیل! اُس نعمت کو یاد کرو جو ہم نے تم پر انعام کی اور میرے عہد کو پورا کرو تائیں بھی تمہارے عہد کو پورا کروں اور مجھ سے پس ڈرو۔اب ظاہر ہے کہ یہود موجودہ زمانہ آنحضرت تو ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ کا مصداق تھے ان پر تو کوئی انعام بھی نہیں ہوا تھا اور نہ ان سے یہ عہد ہوا تھا کہ تم نے خاتم الانبیاء پر ایمان لانا۔(شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۳۲۶) وَامِنُوا بِمَا اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَلَ كَافِرٍ بِهِ وَلَا تَشْتَرُوا بِأَيْتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَ إِيَّايَ فَاتَّقُونِ ص خدا کے پاک کلام قرآن کو نا پاک باتوں سے ملا کر پڑھنا بے ادبی ہے وہ تو صرف روٹیوں کی غرض سے ملاں لوگ پڑھتے ہیں اس ملک کے لوگ نذر ختم وغیرہ دیتے ہیں تو ملاں لوگ لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہیں کہ شور با اور روٹی زیادہ ملے وَلَا تَشْتَرُوا بِايْتِي ثَمَناً قَلِيلاً یہ کفر ہے جو طریق آج کل پنجاب میں نماز کا ہے میرے نزدیک ہمیشہ سے اُس پر بھی اعتراض ہے۔ملاں لوگ صرف مقررہ آدمیوں پر نظر کر کے جماعت کراتے ہیں۔ایسا امام شرعا نا جائز ہے۔صحابہ میں کہیں نظیر نہیں ہے کہ اس طرح اجرت پر امامت کرائی ہو پھر اگر کسی کو مسجد سے نکالا جاوے تو چیف کورٹ تک مقدمہ چلتا ہے یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک ملانے نماز جنازہ