تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 162
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۶۲ سورة البقرة ہیں۔نصوص قرآنیہ سے یہی ثابت ہے کہ انسان کے رہنے اور مرنے کے واسطے یہی زمین ہے۔جو شخص اس کے برخلاف کچھ مذہب رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے کلام کی بے ادبی کرتا ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۷ صفحه ۵) فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمَةٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ الثَّوَابُ الرَّحِيمُ ) دُعا جب قبول ہونے والی ہوتی ہے تو اللہ اس کے لئے دل میں ایک سچا جوش اور اضطراب پیدا کر دیتا ہے اور بسا اوقات اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دعا سکھاتا ہے اور الہامی طور پر اس کا پیرا یہ بتادیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمت اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے راست باز بندوں کو قبول ہونے والی دُعائیں خود الہاما سکھا دیتا ہے۔بعض وقت ایسی دُعا میں ایسا حصہ بھی ہوتا ہے جس کو دُعا کرنے والا نا پسند کرتا ہے مگر وہ قبول ہو جاتی ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ء صفحه ۷) قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَأَمَا يَأْتِيَنَكُمْ مِنِى هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ) یعنی جولوگ میرے کلام کی پیروی کریں نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں سو یہ موتیں اور ذلتیں جو دنیا پرستوں پر آتی ہیں۔ان موتوں کے خوف سے وہ لوگ رہائی پا جاتے ہیں جو کہ خود رضائے الہی میں فانی ہو کر روحانی طور پر موت قبول کر لیتے ہیں۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۹) وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا وَ كَذَبُوا بِأَيْتِنَا أُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ۔یعنی جو لوگ ہماری کتاب پہنچنے کے بعد کفر اختیار کریں اور تکذیب کریں وہ جہنم میں گرائے جائیں گے۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۱۰) جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی وہ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴۱) ہمارا ایمان یہی ہے کہ دوزخ میں ایک عرصہ تک آدمی رہے گا پھر نکل آئے گا گویا جن کی اصلاح نبوت سے نہیں ہو سکی اُن کی اصلاح دوزخ کرے گا۔حدیث میں آیا ہے: يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَّيْسَ فِيْهَا احد یعنی دوزخ پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اُس میں کوئی تنفس نہیں ہوگا اور نسیم صبا اُس کے دروازوں کو