تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 164
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۴ سورة البقرة کی ۶ یا تکبیریں کہیں لوگوں نے پوچھا تو جواب دیا کہ یہ کام روز مرہ کے محاورہ سے یادرہتا ہے۔کبھی سال میں ایک آدمی مرتا ہے تو کیسے یادر ہے۔جب مجھے یہ بات بھول جاتی ہے کہ کوئی مرا بھی کرتا ہے تو اس وقت کوئی میت ہوتی ہے۔اسی طرح ایک ملا یہاں آ کر رہا ہمارے میرزا صاحب نے اُسے محلے تقسیم کر دیئے ایک دن وہ روتا ہوا آیا کہ مجھے جو محلہ دیا ہے اس کے آدمیوں کے قد چھوٹے ہیں اس لئے اُن کے مرنے پر جو کپڑا ملے گا اس سے چادر بھی نہ بنے گی اس وقت ان لوگوں کی حالت بہت ردی ہے صوفی لکھتے ہیں کہ مُردہ کا مال کھانے سے دل سخت ہو جاتا ہے۔وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكَوةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخه ۲۷ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۷۳) ہر ایک جو ز کوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۵) عزیز وا یہ دین کے لئے اور دین کی اغراض کے لئے خدمت کا وقت ہے اس وقت کو غنیمت سمجھو کہ پھر کبھی ہاتھ نہیں آئے گا چاہئے کہ زکوۃ دینے والا اسی جگہ اپنی زکوۃ بھیجے اور ہر ایک شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے اور اس راہ میں وہ روپیہ لگا وے اور بہر حال صدق دکھاوے تافضل اور روح القدس کا انعام پاوے کیونکہ یہ انعام اُن لوگوں کے لئے تیار ہے جو اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۳) جوز یور استعمال میں آتا ہے اور مثلاً کوئی بیاہ شادی پر مانگ کر لے جاتا ہے تو دے دیا جاوے وہ زکوۃ احکام جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخه ۱٫۳۰ پریل ۱۹۰۲ صفحه ۷ ) ے مستقلی ہے۔زیور کے رہن کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا۔زیور ہو، کچھ ہو جب کہ انتفاع جائز ہے تو خواہ نخواہ تکلفات کیوں بناتے جاویں۔اگر کوئی شخص زیور کو استعمال کرنے سے اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے تو اس کی زکوۃ بھی اس کے ذمہ ہے۔زیور کی زکوۃ بھی فرض ہے چنانچہ کل ہی ہمارے گھر میں زیور کی زکوۃ ڈیڑھ سو روپیہ دیا ہے پس اگر زیور استعمال کرتا ہے تو اس کی زکوۃ دے اگر بکری رہن رکھی ہے اور اس کا دودھ پیتا ہے تو اس کو گھاس بھی دے۔الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱) ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو وہ پیدہ کسی شخص نے کسی کو قرضہ دیا ہوا ہے کیا اس پر اس کو زکوۃ دینی لازم ہے؟ فرمایا ”نہیں“۔( بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۷ صفحه ۵)