تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 161
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١۶١ سورة البقرة بیداری سے مشابہہ ہوتا ہے باتیں کیں اور تعبیر کی رو سے سانپ شیطان کا نام ہے اور سانپ سے باتیں کرنا یہ ہے کہ کوئی ظالم بادشاہ ظہور کرے جیسا کہ لکھا ہے اِنْ رَأَى أَنَّهُ يُكَلِّمُ الْحَيَّةَ ظَهَرَ عَدُوٌّ مِنَ الْفَرَاعِنَةِ پس یہ بات قریب قیاس ہے کہ آدم کے خروج کا یہ باعث ہوا ہو کہ کوئی جابر بادشاہ اُس ملک میں آ گیا ہو اور اُس نے آدم کو اس ملک سے نکال دیا ہو کیونکہ یہ عادت اللہ میں داخل نہیں ہے کہ یونہی خدا کے فرشتے دھکے دے کر نکالیں۔سانپ کا حوا سے باتیں کرنا صاف دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک استعارہ ہے کیونکہ خدا کا قانونِ قدرت اس بات کی شہادت نہیں دیتا کہ حیوانات انسان سے باتیں کریں اور سلیمان سے طیور کا باتیں کرنا بھی بطریق کشف کے تھا نہ کہ ظاہری طور پر اسی لئے وہ معجزہ تھا اور اگر وہ فعل مجرد انسانی قومی کے ذریعہ سے ہوتا تو آج کل کروڑ ہا آدمی حیوانات سے گفتگو کر سکتے ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۴ صفحه ۵) وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعُ إِلى حِينِ یعنی تم اپنے جسم خاکی کے ساتھ زمین پر ہی رہو گے یہاں تک کہ اپنے تمتع کے دن پورے کر کے مر جاؤ گے۔ یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے کیونکہ لکھ جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اس بات پر بصراحت دلالت کر رہا ہے کہ جسم خاکی آسمان پر جا نہیں سکتا بلکہ زمین سے ہی نکلا اور زمین میں ہی رہے گا اور زمین میں ہی داخل ہوگا۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۹) ( ترجمہ ) تمہارے قرار کی جگہ زمین ہی رہے گی ۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۰ حاشیه ) تمہاری قرار گاہ زمین ہی ہو گی اور موت کے دنوں تک تم زمین پر ہی اپنے آرام کی چیزیں حاصل کرو گے۔ یہ آیت بھی آیت ممدوحہ بالا ( فِيهَا تَحْيَوْنَ (الخ) کے ہم معنی ہے۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ زمین پر جو انسانوں کے رہنے کی جگہ ہے صرف تینتیس برس تک زندگی بسر کریں مگر آسمان پر جو انسانوں کے رہنے کی جگہ نہیں دو ہزار برس تک یا اس سے بھی زیادہ کسی نامعلوم مدت تک سکونت اختیار کر رکھیں ۔ اس سے تو شبہ پڑے گا کہ وہ انسان نہیں ہیں۔ خاص کر اس صورت میں کہ ایسے فوق الانسانیت خواص دکھلانے میں کوئی دوسرا انسان ان کا شریک نہیں ۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۴، ۳۹۵) وَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُستقر یعنی تمہارا قرار گاہ زمین ہی رہے گی۔ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۹۱) تمہاراز مین پر ہی قرار ہو گا اور تم زمین پر ہی اپنی موت تک زندگی بسر کرو گے۔ یہ بھی خدا کا وعدہ ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۲۸) آدم جس بہشت میں سے نکالا گیا تھا وہ زمین پر ہی تھا بلکہ توریت میں ان کے حدود بھی بیان کئے گئے