تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 130
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ سورة البقرة یہ بہشت اور دوزخ جو سامنے نظر آ رہا ہے اور یہ ملائک جو صف باندھے کھڑے ہیں اور یہ میزان جس سے عمل خل رہے ہیں اور یہ رب العالمین جو عدالت کر رہا ہے۔ان سب باتوں پر اب میں ایمان لایا تو کیا ایسے ایمان سے وہ رہا ہو جائے گا ؟ ہر گز نہیں۔پس اگر رہا نہیں ہوگا تو اس کا سبب کیا ہے؟ کیا اس کا یہ سبب نہیں کہ اس وقت اس نے ان تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جو پہلے اس سے پردہ غیب میں تھیں اس لئے وہ موقعہ ثواب کا ہاتھ سے جاتا رہا جو صرف اسی شخص کو مل سکتا ہے جو ان بدیہی ثبوتوں سے بے خبر ہو اور محض قرائن دقیقہ سے استنباط کر کے بات کی اصلیت تک پہنچ گیا ہو۔سو افسوس کہ وہ لوگ جو فلسفہ پر مرے جاتے ہیں ان کی عقلوں پر یہی پردہ پڑا ہوا ہے کہ وہ اس بات کو نہیں سوچتے کہ اگر علم ذات باری اور علم وجود ملائک اور علم حشر اجسام اور علم جنت و جہنم اور علم نبوت اور رسالت ایسے مانجے جاتے اور صاف کئے جاتے اور بدیہی طور پر دکھلائے جاتے کہ جیسے علوم ہندسہ و حساب اور بعض حصے علوم طبعی اور طبابت اور ہیئت صاف کئے گئے ہیں تو پھر ایسے علوم بدیہہ ضرور یہ کونجات انسانی سے تعلق ہی کیا تھا جب کہ نجات کی یہ حقیقت ہے کہ وہ اللہ جل شانہ کا محبت اور پیار سے بھرا ہوا ایک فضل ہے جو راست بازوں اور صادقوں اور سچے ایمانداروں اور کامل وفاداروں اور اخبار ظنیہ کے ماننے والوں کی طرف رجوع کرتا ہے تو پھر علوم بدیہہ ضرور یہ کا ماننا کس راست بازی اور صدق اور صفا کو ثابت کر سکتا ہے؟ ہم صریح دیکھتے ہیں کہ جیسے ہم اس بات کے قائل ہیں کہ چار کا نصف دو ہیں ایسا ہی ایک اول درجہ کا بدمعاش بھی اسی بات کا قائل ہوتا ہے ہم دنیا میں ہزار ہا بلکہ کروڑہا چیزوں کو یقینی اور قطعی طور پر مانتے ہیں اور ان کے وجود میں ذرہ شک نہیں کرتے تو کیا ان کے ماننے سے کوئی ثواب ہمیں مل سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے نشانوں کو بھی ایسے بدیہی طور سے اپنے نبیوں کے ذریعہ سے ظاہر نہیں کیا جیسے ہمیشہ سے دنیا کے جاہل لوگ تقاضا کر رہے ہیں بلکہ جن کی استعدادوں پر پردہ تھا ان پر ابتلا کا پردہ بھی ڈال دیا جیسا کہ یہ ذکر قرآن کریم میں موجود ہے کہ مکہ کے جاہل یہ درخواست کرتے تھے کہ ہم اس شرط پر ایمان لا سکتے ہیں کہ عرب کے تمام مُردے زندہ کئے جائیں یا یہ کہ ہمارے رو برو ایک زمینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہمارے روبرو ہی آسمان سے اُتر و اور کتاب الہی ساتھ لاؤ جس کو ہم ہاتھ میں لے کر پڑھ لیں اور وہ نادان نہیں سمجھتے تھے کہ اگر انکشاف حقیقت اس قدر ہو جائے تو پھر اس عالم اور قیامت میں فرق کیا رہا اور ایسے بدیہی نشانوں کے بعد اس قبول پر ایمان کا لفظ کیونکر اطلاق کریں گے؟ کون شخص ہے جو حقائق بدیہہ بینہ کو قبول نہیں کرتا ؟ غرض فلسفہ والوں کے خیالات کی بنیاد ہی غلط ہے وہ چاہتے ہیں کہ کل ایمانیات کو علوم مشہودہ محسوسہ میں داخل کردیں اور ملائک اور جنت اور جہنم اور خدا تعالیٰ کا وجود ایسا ثابت