تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 131

۱۳۱ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ہو جائے جیسا کہ آج کل کی تحقیقاتوں سے اکثر معمورہ ارض اور بہت کی نباتات اور کانوں کا پتہ لگ گیا ہے مگر جس چیز کو خدا تعالیٰ نے اوّل روز سے انسان کی نجات کا ایک طریق نکالنے کے لئے ایمانیات میں داخل کر دیا ہے وہ کیونکر برخلاف ارادہ الہی اس درجہ کی ہدایت تک پہنچ جائے ؟ ہاں جب انسان ایمان کے درجہ سے عرفان کے مرتبہ پر ترقی کرتا ہے تو بلا شبہ یہ تمام امور بداہت کے رنگ میں نظر آتے ہیں بلکہ ہندسی ثبوتوں سے بڑھ کر ان کا ثبوت ہوتا ہے کیونکہ ہندی ثبوت اکثر دوائر موہومہ پر مبنی ہیں مگر دینی امور عرفانی مرتبہ میں و ہم اور شک سے منزہ ہوتے ہیں اور دنیا میں جس قدر ایک چیز زیادہ سے زیادہ بدیہی طور پر ثابت ہوسکتی ہے اسی طور پر ان تمام عقائد کا ثبوت مل جاتا ہے بلکہ ایسا اعلیٰ ثبوت کہ کوئی نمونہ اس کا دنیا میں پایا نہیں جاتا مگر کمبخت انسان ان راہوں کی طرف ذرہ رغبت نہیں کرتا اور ان راہوں سے حق الیقین تک پہنچنا چاہتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قدیم قانون قدرت نے وہ راہیں ان امور کے دریافت کے لئے مقرر نہیں کیں اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے کوئی کسی شیرینی کو آنکھ پر رکھ کر اس کا میٹھا یا کڑوا ہونا امتحان کرے یا آنکھوں کو بند کر کے کانوں سے دیکھنے کا کام لینا چاہے مگر یادر ہے کہ یہ بات بھی نہیں کہ ایمانی مرتبہ میں خدا تعالیٰ نے ان تمام امور کے تسلیم کرانے میں اپنے بندوں کو صرف تکلیف مالا يطاق دینا چاہا ہے بلکہ ان کی تسلیم کے لئے براہین لطیفہ دیئے ہیں جن پر ایک سلیم العقل نظر غور ڈال کر ایک حصہ وافریقین کا حاصل کرسکتا ہے مثلاً گوایمانی مرتبہ میں خدا تعالیٰ پر ایمان لانا ایک ایمان بالغیب ہے مگر قرآن کریم کو دیکھو کہ اس صانع کا وجود ثابت کرنے کے لئے کس قدر استدلالات اور براہین شافیہ سے بھرا ہوا ہے۔ایسا ہی اگر چہ یہ تو نہیں کہ ہم ملائک کو کسی منکر کے ہاتھ میں پکڑا دیں یا کام کرتے دکھلا دیں لیکن طالب حق کے لئے اس قدر کافی ہے کہ دقیق در دقیق تذبیرات نظام کو دیکھ کر ضرورت ملائکہ اس کی نظر میں ضرور ثابت ہو جائیں گے اور اگر ایسا طالب دہر یہ ہے تو پہلے ہم وجودِ باری کا اس کو ثبوت دیں گے اور پھر اس بات کا ثبوت کہ خدا بجز اس کے ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کے حکم اور ارادہ کے بغیر ایک پتہ بھی ہل نہ سکے اور پھر یہ ثبوت دیں گے کہ جن مصالح دقیقہ کے ساتھ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنا فیضان بذریعہ شمس و قمر و نجوم و ابر و باد وغیرہ کر رہا ہے ان مصالح کے شناخت اور وضع بینی في محلّه کے قومی ہرگز ان چیزوں کو نہیں دیئے گئے جیسا کہ ابھی ہم ثابت کر چکے اور یہ بھی ثابت کر چکے کہ خدا تعالیٰ بغیر وسائط کے کوئی کام نہیں کرتا اور جن کو وسائط ٹھہراتا ہے پہلے ان کو ان کاموں کی مناسب حال قو تیں اور طاقتیں عطا کرتا ہے مثلاً شعور کے کام صاحب شعور سے لیتا ہے اور ارادہ کا کام صاحب ارادہ سے انسان کا کام انسان سے اور حیوان کا کام حیوان سے اور نظر دقیق کا کام نظر دقیق سے پس ان ثبوتوں کے بعد بلاشبہ