تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 129

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۹ سورة البقرة مدد پاتا ہے مثلاً جب اللہ جل شانہ کا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی دوا سے کسی کو دست آویں تو طبیب کے دل میں فرشتہ ڈال دیتا ہے کہ فلاں مسہل کی دوا اس کو کھلا دو تب وہ تربد یا خیار شیر* یا شیر خشت یا سقمونیا یا سنا یا کسٹرائل یا کوئی اور چیز جیسے دل میں ڈالا گیا ہو اس بیمار کو بتلا دیتا ہے اور پھر فرشتوں کی تائید سے اس دوا کو طبیعت قبول کر لیتی ہے۔تے نہیں آتی تب فرشتے اس دوا پر اپنا اثر ڈال کر بدن میں اس کی تاثیرات پہنچاتے ہیں اور مادہ موذیہ کا اخراج باذنہ تعالیٰ شروع ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے نہایت حکمت اور قدرت کاملہ سے سلسلہ ظاہری علوم و فنون کو بھی ضائع ہونے نہیں دیا اور اپنی خدائی کے تصرفات اور دائمی قبضہ کو بھی معطل نہیں رکھا اور اگر خدا تعالیٰ کا اس قدر دقیق در دقیق تصرف اپنی مخلوق کے عوارض اور اس کی بقا اور فنا پر نہ ہوتا تو وہ ہرگز خدا نہ ٹھہر سکتا اور نہ تو حید درست ہو سکتی۔ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عالم میں نہیں چاہا کہ یہ تمام اسرار عام نظروں میں بدیہی ٹھہر جاویں کیونکہ اگر یہ بدیہی ہوتے تو پھر ان پر ایمان لانے کا کچھ بھی ثواب نہ ہوتا مثلاً اگر لوگ خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور اس کے فرشتوں کا مشاہدہ کر لیتے تو پھر یہ معلومات بھی ان تمام معلومات کی مد میں داخل ہو جاتے جو انسان بذریعہ حواس یا تجارب حاصل کرتا ہے اس صورت میں ان امور کا ماننا موجب نجات نہ ٹھہر سکتا جیسا کہ اور دوسرے صدہا امور معلومہ کا ماننا موجب نجات نہیں ہے مثلاً ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ در حقیقت سورج اور چاند موجود ہیں اور زمین پر صد ہا قسم کے جانور ،صد باقسم کی بوٹیاں،صد باقسم کی کانیں اور دریا اور پہاڑ موجود ہیں مگر کیا اس ماننے سے ہمیں کوئی ثواب حاصل ہوگا یا ہم ان چیزوں کا وجود قبول کرنے سے خدا تعالیٰ کے مقرب ہو جائیں گے؟ ہر گز نہیں! پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ جو شخص خدا جو شخص خدا تعالیٰ کے فرشتوں کو مانتا ہے بہشت اور دوزخ کے وجود پر ایمان لاتا ہے اور قیامت میں میزان عمل کو قبول کرتا ہے قیامت کی پل صراط پر صدق دل سے یقین رکھتا ہے اور اس حقیقت کو مانتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی کتابیں ہیں جو دنیا میں نازل ہوئی ہیں اور اس کے رسول بھی ہیں جو دنیا میں آئے ہیں اور اس کی طرف سے حشر اجسام بھی ہے جو ایک دن ہوگا اور خدا بھی موجود ہے جو درحقیقت واحد لاشریک ہے تو وہ شخص عند اللہ قابل نجات ٹھہر جاتا ہے پیارو!! یقیناً سمجھو کہ اس کی یہی وجہ ہے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ پر جو هنوز در پردہ غیب ہے ایمان لاتا ہے اور اس کی کتاب کے اخبر غیبیہ کو بھی سمجھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک راست باز اور نیک خیال اور نیک ظن اور فرمانبردار ٹھہرتا ہے تب اس صدق کی برکت سے بخشا جاتا ہے ورنہ مجر دمعلومات کو نجات سے تعلق ہی کیا ہے؟ کیا اگر کوئی روز قیامت میں کل حجابوں کے رفع کے بعد یہ کہے کہ سہو کا اب ہے صحیح شہر ہے (شمس)