تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 127

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۷ سورة البقرة القدس یا جبرائیل کہیں گے اور جب ہم ان میں سے کسی کا نام داعی الی الشر رکھیں گے تو اسی کو ہم شیطان اور ابلیس کے نام سے بھی موسوم کریں گے۔ یہ تو ضرور نہیں کہ ہم روح القدس یا شیطان ہر یک تاریک دل کو دکھلا دیں اگر چہ عارف ان کو دیکھ بھی لیتے ہیں اور کشفی مشاہدات سے وہ دونوں نظر بھی آ جاتے ہیں مگر محجوب سے موثر کا کے لئے جو ابھی نہ شیطان کو دیکھ سکتا ہے نہ روح القدس کو یہ ثبوت کافی ہے کیونکہ متاثر کے وجود سے وجود ثابت ہوتا ہے اور اگر یہ قاعدہ صحیح نہیں ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی کیوں کر پتہ لگ سکتا ہے۔ کیا کوئی دکھلا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہاں ہے؟ صرف متاثرات کی طرف دیکھ کر جو اس کی قدرت کے نمونے ہیں اس مؤثر حقیقی کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے۔ ہاں عارف اپنے انتہائی مقام پر روحانی آنکھوں سے اس کو دیکھتے ہیں اور اس کی باتوں کو بھی سنتے ہیں مگر محجوب کے لئے بجز اس کے اور استدلال کا طریق کیا ہے کہ متاثرات کو دیکھ کر اس مؤثر حقیقی کے وجود پر ایمان لاوے۔ سواسی طریق سے روح القدس اور شیاطین کا وجود ثابت ہوتا ہے اور نہ صرف ثابت ہوتا ہے بلکہ نہایت صفائی سے نظر آ جاتا ہے افسوس ان لوگوں کی حالت پر جو فلسفہ باطلہ کی ظلمت سے متاثر ہو کر ملائک اور شیاطین کے وجود سے انکار کر بیٹھے ہیں اور بینات اور نصوص صریحہ قرآن کریم سے انکار کر دیا اور نادانی سے بھرے ہوئے الحاد کے گڑھے میں گر پڑے۔ اور اس جگہ واضح رہے کہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن کے اثبات کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے استنباط حقائق میں اس عاجز کو متفر د کیا ہے۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ 3 (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۸۵ تا ۸۹ ) واضح ہو کہ یہ خیال کہ فرشتے کیوں نظر نہیں آتے بالکل عبث ہے فرشتے خدا تعالیٰ کے وجود کی طرح نہایت لطیف وجود رکھتے ہیں پس کس طرح ان آنکھوں سے نظر آئیں کیا خدا تعالیٰ جس کا وجود ان فلسفیوں کے نزدیک بھی مسلم ہے ان فانی آنکھوں سے نظر آتا ہے۔ ماسوا اس کے یہ بات بھی درست نہیں کہ کسی طرح نظر ہی نہیں آسکتے کیونکہ عارف لوگ اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے جو اکثر بیداری میں ہوتے ہیں فرشتوں کو روحانی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور ان سے باتیں کرتے ہیں اور کئی علوم ان سے اخذ کرتے ہیں اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جو مفتری کذاب کو بغیر ذلیل اور معذب کرنے کے نہیں چھوڑتا کہ میں اس بیان میں صادق ہوں کہ بار ہا عالم کشف میں میں نے ملائک کو دیکھا ہے اور ان سے بعض علوم اخذ کئے ہیں اور ان سے گذشتہ یا آنے والی خبریں معلوم کی ہیں جو مطابق واقعہ تھیں پھر میں کیونکر کہوں کہ فرشتے کسی کو نظر نہیں آسکتے بلا شبہ نظر آسکتے ہیں مگر اور آنکھوں سے۔ سے۔ اور جیسے یہ لوگ ان