تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 126

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۶ سورة البقرة حسیہ کی نسبت بدن انسان کی طرف ہے کیونکہ جیسا کہ نفس ناطقہ انسان کا بدن انسان کی تدبیر بتوسط قومی روحانیہ اور حسیہ کے کرتا ہے ایسا ہی قیوم العالم جو تمام عالم کے بقا اور قیام کے لئے نفس مدیرہ کی طرح اور بحکم آیت الله نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) ان کی حیات کا نور ہے۔تد بیر عالم کبیر کی بواسطہ ملائک کے فرماتا ہے اور ہمیں اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں کہ جو کچھ عالم صغیر میں ذات واحد لاشریک کا نظام ثابت ہوا ہے اس کے مشابہ عالم کبیر کا بھی نظام ہے کیونکہ یہ دونوں عالم ایک ہی ذات سے صادر ہیں اور اس ذات واحد لاشریک کا یہی تقاضا ہونا چاہئے کہ دونوں نظام ایک ہی شکل اور طرز پر واقع ہوں تا دونوں مل کر ایک ہی خالق اور صانع پر دلالت کریں کیونکہ توحید فی النظام، توحید باری عزاسمہ کے مسئلہ کو مؤیّد ہے۔وجہ یہ کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کئی خالق ہوتے تو اس نظام میں اختلاف کثیر پایا جاتا۔غرض یہ بات نہایت سیدھی اور صاف ہے کہ ملائک اللہ عالم کبیر کے لئے ایسے ہی ضروری ہیں جیسے قومی روحانیہ وحسیہ نشاء انسانیہ کے لئے جو عالم صغیر ہے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۷،۱۷۶ حاشیہ ) صرف ہمارے قومی ہماری انسانیت کی گل چلانے کے لئے کافی نہیں ہیں۔ضرور ہمیں خارجی ممد وں اور معاونوں کی حاجت ہے مگر قانونِ قدرت ہمیں بتلا رہا ہے کہ وہ خارجی ممدو معاون اگر چہ بلحاظ علت العلل ہونے کے خدائے تعالیٰ ہی ہے مگر اُس کا یہ انتظام ہر گز نہیں ہے کہ وہ بلا توسط ہمارے قومی اور اجسام پر اثر ڈالتا ہے بلکہ جہاں تک ہم نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں اور جس قدر ہم اپنے فکر اور ذہن اور سوچ سے کام لیتے ہیں صریح اور صاف اور بدیہی طور پر ہمیں نظر آتا ہے کہ ہر یک فیضان کے لئے ہم میں اور ہمارے خدا وند کریم میں علیل متوسطہ ہیں جن کے توسط سے ہر یک قوت اپنی حاجت کے موافق فیضان پاتی ہے۔پس اسی دلیل سے ملائک اور جنات کا وجود بھی ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ ہم نے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ خیر اور شر کے اکتساب میں صرف ہمارے ہی قومی کافی نہیں بلکہ خارجی مدات اور معاونات کی ضرورت ہے جو خارقِ عادت اثر رکھتے ہوں مگر وہ مُمد اور معاون خدا تعالی براہ راست اور بلا توسط نہیں بلکہ بتوسط بعض اسباب ہے۔سو قانون قدرت کے ملاحظہ نے قطعی اور یقینی طور پر ہم پر کھول دیا کہ وہ میذات اور معاونات خارج میں موجود ہیں گو ان کی گنہ اور کیفیت ہم کو معلوم ہو یا نہ مگر یہ یقینی طور پر معلوم ہے کہ وہ نہ براہ راست خدا تعالیٰ ہے اور نہ ہماری ہی قوتیں اور ہمارے ہی ملکے ہیں بلکہ وہ ان دونوں قسموں سے الگ ایسی مخلوق چیزیں ہیں جو ایک مستقل وجود اپنا رکھتی ہیں اور جب ہم ان میں سے کسی کا نام داعی الی الخیر رکھیں گے تو اسی کو ہم روح