تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 128
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۸ سورة البقرة باتوں پر ہنستے ہیں عارف ان کی حالتوں پر روتے ہیں۔اگر صحبت میں رہیں تو کشفی طریقوں سے مطمئن ہو سکتے ہیں لیکن مشکل تو یہی ہے کہ ایسے لوگوں کی کھوپڑی میں ایک قسم کا تکبر ہوتا ہے۔وہ تکبر انہیں اس قدر بھی اجازت نہیں دیتا کہ انکسار اور تذلل اختیار کر کے طالب حق بن کر حاضر ہو جائیں۔اور یہ خیالات کہ ہمیں فرشتوں کے کاموں کا کیوں کچھ احساس نہیں ہوتا۔دراصل پہلے اعتراض کی ایک فرع ہیں۔محجوب ہونے کی حالت میں جیسے فرشتے نظر نہیں آتے اور جیسے خدا تعالیٰ کا بھی کچھ پتہ نہیں لگتا صرف اپنے خیالات پر سارا مدار ہوتا ہے۔ایسا ہی فرشتوں کے کاموں کا بھی جو روحانی ہیں کچھ احساس نہیں ہوتا۔اس جگہ یہی مشکل ٹھیک آتی ہے کہ ایک اندھے نے آفتاب کے وجود کا انکار کر دیا تھا کہ ٹولنے سے اس کا کچھ پتہ نہیں ملتا تب آفتاب نے اس کو مخاطب کر کے کہا کہ اے اندھے ! میں ٹٹولنے سے معلوم نہیں ہو سکتا کیونکہ تیرے ہاتھوں سے بہت دور ہوں تو یہ دعا کر کہ خدا تعالیٰ تجھ کو آنکھیں بخشے تب تو آنکھوں کے ذریعہ سے مجھے دیکھ لے گا۔اور یہ خیال کہ اگر مد برات اور مقسمات امر فرشتے ہیں تو پھر ہماری تدبیریں کیوں پیش جاتی ہیں اور کیوں اکثر امور ہمارے معالجات اور تد بیرات سے ہماری مرضی کے موافق ہو جاتے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ ہمارے معالجات اور تد بیرات بھی فرشتوں کے دخل اور القاء اور الہام سے خالی نہیں ہیں جس کام کو فر شتے باذنہ تعالیٰ کرتے ہیں وہ کام اس شخص یا اس چیز سے لیتے ہیں جس میں فرشتوں کی تحریکات کے اثر کو قبول کرنے کا فطرتی مادہ ہے مثلاً فرشتے جو ایک کھیت یا ایک گاؤں یا ایک ملک میں باذنہ تعالیٰ پانی برسانا چاہتے ہیں تو وہ آپ تو پانی نہیں بن سکتے اور نہ آگ سے پانی کا کام لے سکتے ہیں بلکہ بادل کو اپنی تحریکات جاذبہ سے محل مقصود پر پہنچا دیتے ہیں اور مدبرات امر بن کر جس کم اور گیف اور حد اور اندازہ تک ارادہ کیا گیا ہے برسا دیتے ہیں۔بادل میں وہ تمام قوتیں موجود ہوتی ہیں جو ایک بے جان اور بے ارادہ اور بے شعور چیز میں باعتبار اس کے جمادی حالت اور عصری خاصیت کے ہو سکتے ہیں اور فرشتوں کی منصبی خدمت دراصل تقسیم اور تدبیر ہوتی ہے اسی لئے وہ مقسمات اور مدبرات کہلاتے ہیں اور القاء اور الہام بھی جوفرشتے کرتے ہیں وہ بھی برعایت فطرت ہی ہوتا ہے مثلاً وہ الہام جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں پر وہ نازل کرتے ہیں دوسروں پر نہیں کر سکتے بلکہ اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور اسی قاعدہ کے موافق ہر ایک شخص اپنے انداز و استعداد پر فرشتوں کے الفا سے فیض یاب ہوتا ہے اور جس فن یا علم کی طرف کسی کا روئے خیال ہے اسی میں فرشتہ سے