تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 120

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اله۔ سورة البقرة اور کائنات الجو کا صرف اسباب طبیعیہ خارجیہ سے ظہور میں آتا ہے اور کسی روحانی سبب کی ضرورت نہیں بالکل غیر معقول ہے کیونکہ اگر ایسا ہی ہوتا کہ یہ تغیرات اجرام سماوی اور حوادث کا ئنات الجو جو بڑے بڑے مصالح پر مشتمل اور بنی آدم کی بقا اور صحت اور ضرورات معاشرت کی اس شرط سے ممد و معاون ہیں کہ ان میں افراط اور تفریط نہ پایا جائے اگر یہ خو جائے اگر یہ خود بخود ہوتے اور ایسی ذی شعور چیزوں کا درمیان قدم نہ ہوتا جو ارادہ اور فہم اور مصلحت اور اعتدال کی رعایت کر سکتے ہیں اور ہمارا تمام کاروبار زندگی اور بقا اور ضرورات معاشرت کا صاف ایسی چیزوں پر چھوڑا جاتا جو نہ شعور رکھتے ہیں نہ ادراک اور نہ مصلحت وقت کو پہچان سکتے ہیں اور نہ اپنے کاموں کو افراط اور تفریط سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور نہ نیک انسان اور بد انسان میں فرق کر کے ہریک کے ساتھ اس کے مناسب حال معاملہ کر سکتے ہیں تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا اور صانع حکیم وقد ير و عادل و رحیم و کریم کا کچھ پتہ نہ لگتا بلکہ یہ سلسلہ ذی روحوں کی حیات کا جو زمین پر بستی ہیں ایک دم بھی چل نہ سکتا اور دنیا مع اپنے تمام لوازم کے اپنے خاتمہ کے صدمہ کو دیکھ لیتی ۔ پس اس سے صاف تر اور صریح تر اور روشن تر اور کیا دلیل ہو گی کہ اس آسمانی اور کائنات الجو کے سلسلہ میں وہ گڑ بڑ اور اندھیر نظر نہیں آتا جو اس صورت میں ہوتا جب کہ تمام مدار اس نظام کا بے جان اور بے شعور چیزوں پر ہوتا سو ہمیں اس دلیل کی روشنی ملائک کے وجود اور ان کی ضرورت کے ماننے کے لئے ایسی بصیرت بخشتی ہے کہ گو یا ہم بچشم خود ملائک کے وجود کو کہ یا دیکھ رہے ہیں ۔ اور اگر کوئی اس جگہ یہ شبہ پیش کرے کہ کیوں یہ بات روا نہیں کہ ملائک درمیان نہ ہوں اور ہر یک چیز خدا تعالیٰ کے حکم اور اذن اور تدبیر محکم سے وہی خدمت بجالا وے جو اللہ جل شانہ کا منشا ہے تو ایسا شبہ در حقیقت غلط نہی کی وجہ سے پیدا ہوگا کیونکہ ہم ابھی پہلے اس سے لکھ چکے ہیں کہ یہ بات ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ اجرام علوی اور عناصر اور کائنات الجو جو ہماری بقا اور حیات اور معاشرت کے خادم ٹھہرائے گئے ہیں علم اور شعور اور ارادہ نہیں رکھتے پس صرف انہیں کے تغیرات اور حوادث سے وہ کام اور وہ اغراض اور وہ مقاصد ہمارے لئے حاصل ہو جانا جو صرف عاقلا نہ وزن اور تعدیل اور تدبیر اور مصلحت اندیشی سے صادر ہو سکتے ہیں ببداہت ممتنع ہے۔ خدا تعالیٰ جس چیز سے کوئی کام لینا چاہتا ہے اوّل اس کام کے متعلق جس قدر مصالح ہیں ان تمام مصالح کے مناسب حال اس چیز میں قومی رکھ دیتا ہے۔ مثلاً ایک فعل خدا تعالیٰ کا بارش ہے جس کے انواع اقسام کے اغراض کے لئے ہمیں ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال کے موافق کبھی