تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 121
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۲۱ سورة البقرة اس بارش کو عین وقتوں پر نازل کرتا ہے اور افراط تفریط کے نقصانوں سے ہمارے کھیتوں اور ہماری صحتوں کو بچا لیتا ہے اور کبھی دنیا پر کوئی تنبیہ نازل کرنا منظور ہوتا ہے تو بارش کوجس ملک سے چاہے روک لیتا ہے یا اس میں افراط تفریط رکھ دیتا ہے کبھی ایک ملک یا ایک شہر یا ایک گاؤں یا ایک قطعہ زمین کو بعض آدمیوں کو سزا دینے کے لئے اس بارش کے نفع سے بھی محروم کر دیتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے فقط اسی قدر بادل کو آسمان کی فضا میں پھیلاتا ہے یہاں تک کہ ایک کھیت میں بارش برستی ہے اور ایک دوسرا کھیت جو اسی کے ساتھ ملحق ہے اس بارش کے ایک قطرہ سے بھی بہرہ یاب نہیں ہوتا اور خشک اور دھوپ میں سڑا ہوا رہ جاتا ہے۔ایسا ہی بھی ایک ہوا کا بگڑ نا ایک شہر یا ایک اقلیم یا ایک محلہ کوسخت و با میں ڈالتا ہے اور دوسری طرف کو بکلی بچالیتا ہے اسی طرح ہم ہزار باد قیق در دقیق ربانی مصالح دیکھتے ہیں۔جن کو ہم بے شعور عناصر اور اجرام کی طرف ہرگز منسوب نہیں کر سکتے اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ ایسے مصالح سے بھرے ہوئے کام صرف بے جان اور بے شعور اور بے تد بیر اجرام اور عناصر اور دوسری کا ئنات الحجو سے ہرگز نہیں ہو سکتے۔بے شک خدا تعالیٰ اس بات پر تو قادر تھا کہ ان چیزوں سے یہ سب کام لے لیتا لیکن اگر وہ ایسا کرتا تو اول ان چیزوں کو فہم اور ادراک اور شعور اور وضع اللي في محل کی عقل بخشا اور جب کہ یہ ثابت نہیں تو پھر ضرورتا یہ ثابت ہے کہ ان کے ساتھ در پردہ اور چیزیں ہیں جن کو وضع الشيء في محلہ کی عقل دی گئی ہے اور وہی ملائک ہیں۔میں جانتا ہوں کہ کوئی ایسا شخص جو خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان لاتا ہے اور اس کو رحیم اور کریم اور مرتبہ اور عادل سمجھتا ہے وہ ہرگز ایسا خیال نہیں کرے گا کہ اس حکیم و کریم نے اپنی ربوبیت کے نظام کا تمام کارخانہ ایسی چیزوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے جن کو نیک و بد کی شناخت عطا نہیں ہوئی اور تدابیر اور تعدیل اور مصلحت شناسی کی قوتیں بخشی نہیں گئیں۔ہاں ایک طبعی اور دہری جو خدا تعالیٰ کے وجود سے ہی منکر ہے ضرور ایسا خیال کرے گا مگر وہ ساتھ ہی غفلت کی وجہ سے یہ بھی کہے گا کہ جو کچھ اجرام سماوی یا عناصر اور کائنات الحق سے ظہور میں آ رہا ہے وہ بر وفق حکمت اور مصلحت نہیں ہے اور نہ خدا موجود ہے تا اس کو حکمت اور مصلحت سے کام کرنے والا مان لیا جائے بلکہ اتفاقاً اجرام علوی اور سفلی کے حوادث اور تغیرات سے کبھی خیر اور کبھی شر انسانوں کے لئے پیش آجاتی ہے۔سو اس کے قائل کرنے کے لئے الگ طریق ہے جو بہت صاف اور جلد اس کا منہ بند کرنے والا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے زبردست کام اور پیشگوئیاں جو ر بانی طاقت اپنے اندر رکھتی ہیں جو ملہموں اور واصلان الہی کو دی جاتی ہیں اللہ جل شانہ کے وجود اور اس کی صفات کا ملہ جمیلہ جلیلہ پر