تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 119
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۹ سورة البقرة خارجی امدادات کے محتاج ہیں پھر جب کہ یہ قانون اور انتظام خدائے واحد لاشریک کا جس کے کاموں میں وحدت اور تناسب ہے ہمارے خارجی قومی اور حواس اور اغراض جسمانی کی نسبت نہایت شدت اور استحکام اور کمال التزام سے پایا جاتا ہے تو پھر کیا یہ بات ضروری اور لازمی نہیں کہ ہماری روحانی تکمیل اور روحانی اغراض کے لئے بھی یہی انتظام ہوتا ؟ دونوں انتظام ایک ہی طرز پر واقع ہو کر صانع واحد پر دلالت کریں اور خود ظاہر ہے کہ جس حکیم مطلق نے ظاہری انتظام کی یہ بنا ڈالی ہے اور اسی کو پسند کیا ہے کہ اجرام سماوی اور عناصر وغیرہ اسباب خارجیہ کے اثر سے ہمارے ظاہر اجسام اور قومی اور حواس کی تکمیل ہو اس حکیم قادر نے ہماری روحانیت کے لئے بھی یہی انتظام پسند کیا ہوگا کیونکہ وہ واحد لاشریک ہے اور اس کی حکمتوں اور کاموں میں وحدت اور تناسب ہے اور دلائل اقیہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔سو وہ اشیاء خارجیہ جو ہماری روحانیت پر اثر ڈال کر شمس اور قمر اور عناصر کی طرح جو اغراض جسمانی کے لئے محمد ہیں ہماری اغراض روحانی کو پورا کرتی ہیں انہیں کا نام ہم ملائک رکھتے ہیں۔پس اس تقریر سے وجود ملائک کا بوجہ احسن ثابت ہوتا ہے اور گو ہم پر ان کی گنہ کھل نہ سکے اور کھلنا کچھ ضرور بھی نہیں۔لیکن اجمالی طور پر قانون قدرت کے توافق اور اتحاد پر نظر کر کے ان کا وجود ہمیں ماننا پڑتا ہے کیونکہ جس حالت میں ہم نے بطیب خاطر ظاہری قانون کو مان لیا ہے تو پھر کیا وجہ کہ ہم اسی طرز اور طریق پر باطنی قانون کو تسلیم نہ کریں۔بے شک ہمیں باطنی قانون بھی اسی طرح قبول کرنا پڑے گا کہ جس طرح ہم نے ظاہری قانون کو مان لیا۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۳ تا۵ ۱۳ حاشیه ) قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے فرشتے نجوم اور شمس اور قمر اور آسمان کے لئے جان کی طرح ہیں اور قیام اور بقا ان تمام چیزوں کا فرشتوں کے تعلق پر موقوف ہے۔اور ان کے ارجاء کی طرف کھسک جانے سے تمام اجرام ستاروں اور شمس و قمر اور آسمان کو موت کی صورت پیش آتی ہے تو پھر اس صورت میں وہ جان کی طرح ہوئے یا کچھ اور ہوئے۔میں ان مولویوں کی حالت پر سخت افسوس کرتا ہوں کہ جو ان تمام کھلے کھلے مقامات قرآنی کو دیکھ کر پھر بھی اس بات کے قبول کرنے سے متامل ہیں کہ ملائکہ کو اجرام سماوی بلکہ بعض فرشتوں کو جو عنصر یون ہیں عناصر اور اجرام سماوی سے ایسا شدید تعلق ہے کہ جیسا کہ ارواح کو قوالب کے ساتھ ہوتا ہے۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۳، ۱۴۴ حاشیه ) معقولی طور پر اس بات کا ثبوت کہ نظام ظاہری میں جو کچھ امر خیر ہورہا ہے ان تمام امور کا ظہور وصدور دراصل ملائکہ کے افعال خفیہ سے ہے ان امور پر غور کرنے سے پیدا ہوتا ہے کہ ہر یک چیز سے اللہ جل شانہ وہ کام لیتا ہے جس کام کے کرنے کی اس چیز کو قو تیں عطا کی گئی ہیں۔پس اب یہ خیال کرنا کہ ہر یک تغیر اجرام سماوی