تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 116

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١۶ سورة البقرة به كَثِيرًا اسی وجہ سے ہمیشہ ظاہر پرست لوگ امتحان میں پڑ کر پیشگوئی کے ظہور کے وقت دھوکا کھا جاتے ہیں اور زیادہ تر انکار کرنے والے اور حقیقت مقصودہ سے بے نصیب رہنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ حرف حرف پیشگوئی کا ظاہری طور پر جیسا کہ سمجھا گیا ہو پورا ہو جائے حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہوتا۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۳۳ ، ۱۳۴) خدا سے ہر وقت حفاظت چاہتے رہو کیونکہ نا پاک اور نامراد ہے وہ دل جو ہر وقت خدا کے آستانہ پر نہیں گرتا وہ محروم کیا جاتا ہے ۔ دیکھو اگر خدا ہی حفاظت نہ کرے تو انسان کا ایک دم گزارہ نہیں ۔ زمین کے نیچے سے لے کر آسمان کے اوپر تک کا ہر طبقہ اس کے دشمنوں کا بھرا ہوا ہے۔ اگر اسی کی حفاظت شاملِ حال نہ ہو تو کیا ہو سکتا ہے؟ دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالی ہدایت پر کار بند رکھے کیونکہ اس کے ارادے دو ہی ہیں ؛ گمراہ کرنا اور ہدایت دینا جیسا کہ فرماتا ہے : يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۔ پس جب اس کے ارادے گمراہ کرنے پر بھی ہیں تو ہر وقت دعا کرنی چاہیے کہ وہ گمراہی سے بچاوے اور ہدایت کی توفیق دے۔ نرم مزاج بنو کیونکہ جو نرم مزاجی اختیار کرتا ہے خدا بھی اس سے نرم معاملہ کرتا ہے ۔اصل میں نیک انسان تو اپنا پاؤں بھی زمین پر پھونک پھونک کر احتیاط سے رکھتا ہے تا کہ کسی کیڑے کو بھی اس سے تکلیف نہ ہو۔ غرض اپنے ہاتھ سے، پاؤں سے، آنکھ وغیرہ اعضاء سے کسی نوع کی تکلیف نہ پہنچاؤ اور دعائیں مانگتے رہو۔ الحکم جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ رفروری ۱۹۰۳ صفحه ۱۴، ۱۵) كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۔ یعنی تم اس خدا سے کیوں انکار کرتے ہو جس نے تمہیں موت کے بعد زندگی بخشی پھر تمہیں موت دے گا اور پھر زندہ کرے گا اور پھر اس کی درگاہ میں حاضر کئے جاؤ گے ۔ (ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۳) انسان پر ایک زمانہ آتا ہے کہ وہ نطفہ ہوتا ہے اور اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا پھر مدارج ستہ سے گزر کر اس پر ایک موت آتی ہے اور پھر اسے ایک احیاء دیا جاتا ہے۔ یہ ایک مسلم مسئلہ ہے کہ ہر حیات سے پہلے ایک موت ضرور آتی ہے۔ اس آیت میں صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ایک زمانہ اُن پر ایسا گزرا ہے کہ وہ بالکل مردہ تھے یعنی ہر قسم کی ضلالت اور ظلمت میں مبتلا تھے پھر ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ زندگی عطا ہوئی اور پھر ان کی تکمیل اور ایک موت ان پر وارد ہوئی جو فنا فی اللہ کی موت تھی اس کے بعد ان کو