تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 117
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 112 سورة البقرة بابا للہ کا درجہ ملا۔اور ہمیشہ کے لئے زندگی پائی۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰/ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۶) هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَولُهُنَّ سَبْعَ سَمُوتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ نَ وہ وہی خدا ہے جس نے جو کچھ زمین پر ہے تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۷۵) خدا تعالیٰ نے جو کچھ زمین میں ہے سب پیدا کر کے اور آسمان کو بھی سات طبقے بنا کر غرض اس عالم کی پیدائش سے بکلی فراغت پا کر پھر چاہا کہ آدم کو پیدا کرے۔پس اُس نے اُس کو روز ششم یعنی جمعہ کے آخر حصہ میں پیدا کیا کیونکہ جو چیزیں از روئے نص قرآنی چھٹے دن پیدا ہوئی تھیں آدم اُن سب کے بعد میں پیدا کیا گیا۔اور اس پر دلیل یہ ہے کہ سورۃ حم السجدة جزو چوبیس میں اس بات کی تصریح ہے کہ خدا نے جمعرات اور جمعہ کے دن سات آسمان بنائے اور ہر ایک آسمان کے ساکن کو جو اس آسمان میں رہتا تھا اس آسمان کے متعلق جو امر تھا وہ اس کو سمجھا دیا اور ور لے آسمان کو ستاروں کی قندیلوں سے سجایا اور نیز اُن ستاروں کو اس لئے پیدا کیا کہ بہت سے امور حفاظت دنیا کے ان پر موقوف تھے۔یہ اندازے اُس خدا کے باندھے ہوئے ہیں جو زبر دست اور دانا ہے۔(تحفہ گولٹر ویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۷۸،۲۷۷ حاشیہ) وَ اذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ 19۔b يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ قادر مطلق نے دنیا کے حوادث کو صرف اسی ظاہری سلسلہ تک محصور اور محدود نہیں کیا بلکہ ایک باطنی سلسلہ ساتھ ساتھ جاری ہے۔اگر آفتاب ہے یا ماہتاب یا زمین یا وہ بخارات جن سے پانی برستا ہے یا وہ آندھیاں جوز ور سے آتی ہیں یا وہ اولے جو زمین پر گرتے ہیں یا وہ شہپ ثاقبہ جو ٹوٹتے ہیں اگر چہ یہ تمام چیزیں اپنے کاموں اور تمام تغییرات اور تحولات اور حدوثات میں ظاہری اسباب بھی رکھتی ہیں جن کے بیان میں ہیئت اور طبعی کے دفتر بھرے پڑے ہیں لیکن با ایں ہمہ عارف لوگ جانتے ہیں کہ ان اسباب کے نیچے اور اسباب اور بھی ہیں جو مد تبر بالا رادہ ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں نام ملائک ہے وہ جس چیز سے تعلق رکھتے ہیں اس کے