تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 107
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+2 سورة البقرة یاد رکھو کہ اُس جگہ پر جو راحتیں ملتی ہیں وہ وہی پاک نفس ہوتا ہے جو دنیا میں بنایا جاتا ہے۔پاک ایمان پودہ سے مماثلت رکھتا ہے اور اچھے اچھے اعمال اخلاق فاضلہ یہ اس پودہ کی آبپاشی کے لئے بطور نہروں کے ہیں جو اس کی سرسبزی اور شادابی کو بحال رکھتے ہیں۔اس دنیا میں تو یہ ایسے ہیں جیسے خواب میں دیکھے جاتے ہیں مگر اُس عالم میں محسوس اور مشاہد ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ لکھا ہے کہ جب بہشتی ان انعامات سے بہرہ ور ہوں گے تو یہ کہیں گے هذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِها اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ دنیا میں جو دودھ یا شہد یا انگور، انار وغیرہ چیزیں ہم کھاتے پیتے ہیں وہی وہاں ملیں گی۔نہیں وہ چیزیں اپنی نوعیت اور حالت کے لحاظ سے بالکل اور کی اور ہوں گی۔ہاں صرف نام کا اشتراک پایا جاتا ہے اور اگر چہ ان تمام نعمتوں کا نقشہ جسمانی طور پر دکھایا گیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ بتادیا گیا ہے کہ وہ چیزیں روح کو روشن کرتی ہیں اور خدا کی معرفت پیدا کرنے والی ہیں ان کا سر چشمہ روح اور راستی ہے۔رُزِقْنَا مِن قَبْلُ سے یہ مراد لینا کہ وہ دنیا کی جسمانی نعمتیں ہیں بالکل غلط ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا منشا اس آیت میں یہ ہے کہ جن مومنوں نے اعمالِ صالحہ کئے اُنہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک بہشت بنایا جس کا پھل وہ اس دوسری زندگی میں بھی کھائیں گے اور وہ پھل چونکہ روحانی طور پر دنیا میں بھی کھا چکے ہوں گے اس لئے اُس عالم میں اُس کو پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل معلوم ہوتے ہیں اور یہ وہی روحانی ترقیاں ہوتی ہیں جو دنیا میں کی ہوتی ہیں اس لئے وہ عابد و عارف اُن کو پہچان لیں گے۔میں پھر صاف کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ جہنم اور بہشت میں ایک فلسفہ ہے جس کا ربط با ہم اسی طرح پر قائم ہوتا ہے جو میں نے ابھی بتایا ہے۔مگر اس بات کو کبھی بھی بھولنا نہیں چاہئے کہ دنیا کی سزائیں تنبیہ اور عبرت کے لئے انتظامی رنگ کی حیثیت سے ہیں۔سیاست اور رحمت دونوں باہم ایک رشتہ رکھتی ہیں۔اور اسی رشتہ کے اظلال یہ سزائیں اور جزائیں ہیں۔انسانی افعال اور اعمال اسی طرح پر محفوظ اور بند ہوتے جاتے ہیں جیسے فونوگراف میں آواز بند کی جاتی ہے۔جب تک انسان عارف نہ ہو اس سلسلہ پر غور کر کے کوئی لذت اور فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔الحکم جلد ۶ نمبر ا مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۶،۵) دوزخیوں کے لئے بیان کیا گیا ہے کہ اُن کو زقوم کھانے کو ملے گا اور بہشتیوں کو اُس کے بالمقابل دودھ اور شہد کی نہریں اور قسم قسم کے پھل بیان کئے گئے ہیں اس کا ستر کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بالمقابل بیان ہوئی ہیں بہشت کی نعمتوں کا ذکر ایک جگہ کر کے یہ بھی