تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 106

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+4 سورة البقرة سلسبیل اور زنجبیلی اور کا فوری نہریں ہوں گی اسی طرح جہنم میں گرم پانی اور پیپ کی نہریں بتائی ہیں۔ان پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایمان منکسر المزاجی اور اپنی رائے کو چھوڑ دینے سے پیدا ہوا ہے اسی طرح بے ایمانی تکبر اور انانیت سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اس کے نتیجہ میں زقوم کا درخت دوزخ میں ہوا اور وہ بد اعمالیاں اور شوخیاں جو اس تکبر و خود بینی سے پیدا ہوتی ہیں وہ وہی کھولتا ہوا پانی یا پیپ ہوگی جو دوزخیوں کو ملے گی۔اب یہ کیسی صاف بات ہے کہ جیسے بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہوتی ہے اسی طرح پر دوزخ کی زندگی بھی یہاں ہی سے انسان لے جاتا ہے جیسا کہ دوزخ کے باب میں فرمایا ہے کہ نَارُ اللهِ الْمُوقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَنْدَةِ (الهمزة: ۷ (۸) یعنی دوزخ وہ آگ ہے جو خدا کا غضب اُس کا منبع ہے اور وہ گناہ سے پیدا ہوتی اور پہلے دل پر غالب ہوتی ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس آگ کی جڑ وہ ہموم عموم اور حسرتیں ہیں جو انسان کو آگھیرتی ہیں کیونکہ تمام روحانی عذاب پہلے دل سے ہی شروع ہوتے ہیں جیسے تمام روحانی سروروں کا منبع بھی دل ہے اور دل ہی سے شروع ہونے بھی چاہئیں کیونکہ دل ہی ایمان یا بے ایمانی کا منبع ہے ایمان یا بے ایمانی کا شگوفہ بھی پہلے دل ہی سے نکلتا ہے۔اور پھر تمام بدن اور اعضا پر اس کا عمل ہوتا ہے اور سارے جسم پر محیط ہو جاتا ہے۔پس یا درکھو کہ بہشت اور دوزخ اسی دنیا سے انسان ساتھ لے جاتا ہے اور یہ بات بھولنی نہ چاہئے کہ بہشت اور دوزخ اس جسمانی دنیا کی طرح نہیں ہے بلکہ ان دونوں کا مبدء اور منبع روحانی امور ہیں ہاں یہ سچی بات ہے کہ عالم معاد میں وہ جسمانی شکل پر ضرور متشکل ہو کر نظر آئیں گے۔یہ ایک بڑا ضروری مضمون ہے جس پر ساری قوموں نے دھوکہ کھایا ہے اور اس کی حقیقت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے کوئی خدا ہی کا منکر ہو بیٹھا ہے اور کوئی تناسخ کا قائل ہو گیا کسی نے کچھ تجویز کیا اور کسی نے کچھ۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴۲ مورخه ۱۷ رنومبر ۱۹۰۱ ء صفحه ۲،۱) جولوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کرتے ہیں اُن کو خوشخبری دے دو کہ وہ اُن باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہیں۔اس آیت میں ایمان کو اللہ تعالیٰ نے باغ سے مثال دی ہے اور اعمال صالحہ کو نہروں سے۔جو رشتہ اور تعلق نہر جاریہ اور درخت میں ہے وہی رشتہ اور تعلق اعمال صالحہ کو ایمان سے ہے۔پس جیسے کوئی باغ ممکن ہی نہیں کہ پانی کے بدوں سرسبز اور ثمر دار ہو سکے اسی طرح پر کوئی ایمان جس کے ساتھ اعمال صالحہ نہ ہوں مفید اور کارگر نہیں ہو سکتا۔پس بہشت کیا ہے وہ ایمان اور اعمال ہی کے مجسم نظارے ہیں۔وہ بھی دوزخ کی طرح کوئی خارجی چیز نہیں ہے بلکہ انسان کا بہشت بھی اُس کے اندر ہی سے نکلتا ہے۔