تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 108

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۰۸ سورة البقرة فرمایا ہے كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَ أَتُوا بِهِ مُتَشَابِها تو اس میں رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ سے یہ مراد نہیں کہ دنیا کے آم، خربوزے اور دوسرے پھل اور دنیا کا دودھ اور شہدان کو یاد آ جائے گا۔نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ مومن جو اخلاص اور محبت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس ذوق شوق سے جو لذت اُن کو محسوس ہوتی ہے تو بہشت کی نعمتوں اور لذتوں کے حاصل ہونے پر وہ لذت اُن کو یاد آ جائے گی کہ اس قسم کی لذت بخش نعمتیں ہمارے رب سے پہلے بھی ملتی رہی ہیں۔چونکہ بہشتی زندگی اسی عالم سے شروع ہوتی ہے اس لئے ان نعمتوں کا ملنا بھی یہیں سے شروع ہو جاتا ہے ورنہ بہشت کی نعمتوں کے بارہ میں تو آیا ہے کہ نہ اُن کو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا تو ان دنیوی پھلوں سے اُن کا رشتہ کیا ہوا ؟ ایمان اور اعمال کی مثال قرآن شریف میں درختوں سے دی گئی ہے ایمان کو درخت بتایا ہے اور اعمال اس کی آبپاشی کے لئے بطور نہروں کے ہیں۔جب تک اعمال سے ایمان کے پودہ کی آبپاشی نہ ہو اُس وقت تک وہ شیریں پھل حاصل نہیں ہوتے۔بہشتی زندگی والا انسان خدا کی یاد سے ہر وقت لذت پاتا ہے اور جو بد بخت دوزخی زندگی والا ہے تو وہ ہر وقت اس دنیا میں زقوم ہی کھا رہا ہے اس کی زندگی تلخ ہوتی ہے مَعِيشَةً صنعا (لطه : ۱۲۵) بھی اسی کا نام ہے جو قیامت کے دن زقوم کی صورت پر متمقل ہو جائے گی۔غرض دونوں صورتوں میں باہم رشتے قائم ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ /اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰) کوئی بات سوائے خدا کے فضل کے حاصل نہیں ہو سکتی اور جسے اس دنیا میں فضل ہو گا اُسے ہی آخرت میں بھی ہوگا جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعلى (بى اسرائيل : ۷۳) اى لئے یہ ضروری ہے کہ ان حواس کے حصول کی کوشش اسی جہان میں کرنی چاہئے کہ جس سے انسان کو بہشتی زندگی حاصل ہوتی ہے اور وہ حواس بلا تقومی کے نہیں مل سکتے۔ان آنکھوں سے انسان خدا کو نہیں دیکھ سکتا لیکن تقویٰ کی آنکھوں سے انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے۔اگر وہ تقویٰ اختیار کرے گا تو وہ محسوس کرے گا کہ خدا مجھے نظر آ رہا ہے اور ایک دن آوے گا کہ خود کہ اُٹھے گا کہ میں نے خدا کو دیکھ لیا۔اسی بہشتی زندگی کی تفصیل جو کہ متقی کو اسی دنیا میں حاصل ہوتی ہے قرآن شریف میں ایک اور جگہ بھی پائی جاتی ہے جیسے لکھا ہے كُلما رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هُذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ - جب وہ عالم آخرت میں ان درختوں کے ان پھلوں سے جو دنیا کی زندگی میں ہی ان کومل چکے تھے پائیں گے تو کہ دیویں گے کہ یہ تو وہ پھل ہیں جو کہ ہمیں اول ہی دیئے گئے تھے کیونکہ وہ ان پھلوں کو ان پہلے پھلوں سے مشابہ پاویں گے۔اس سے یہ مطلب