تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 83
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۳ سورة البقرة إنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِعُونَ ® یعنی جب وہ مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب وہ دوسروں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو قرآن شریف میں منافق کہا گیا ہے اس لئے جب تک کوئی شخص پورے طور پر قرآن مجید پر عمل نہیں کرتا تب تک وہ پورا پورا اسلام میں بھی داخل نہیں ہوتا۔ود و احکام جلد ۱۲ نمبر ا مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۵) لا صمٌّ بُكُمْ عَلَى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ) یعنی اندھے اور گونگے اور بہرے خدا سے دور رہیں گے۔( تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۶۳ حاشیه) قانون الہی یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت اُٹھ جاتی ہے اور دلوں میں رقت اور روح میں گدازش نہیں رہتی اُس وقت منذر نشان پیدا ہوتے ہیں۔یہ مقام تو ڈرنے کا تھا مگر افسوس ان لوگوں نے اندھے اور بہرے ہو کر ان نشانات الہیہ کو ( جو تضرع اور ابتہال پیدا کر سکتے تھے۔ایمان میں ایک نئی زندگی بخش سکتے تھے ) چھوڑ دیا اور صحم بکھر ہو کر گزر گئے ایسے لوگوں کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ایسے لوگوں پر خدا کا فتویٰ لگ چکا ہے تم بُكُمْ عَلَى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ - الحكم جلد ۴ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۰ صفحه ۳) جوں جوں متقی خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے ایک نور ہدایت اُسے ملتا ہے۔جو اس کی معلومات اور عقل میں ایک خاص قسم کی روشنی پیدا کرتا ہے اور جوں جوں دور ہوتا جاتا ہے ایک تباہ کرنے والی تاریکی اُس کے دل و دماغ پر قبضہ کر لیتی ہے۔یہاں تک کہ وہ صنم بکھ عُمنٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ کا مصداق ہو کر ذلت اور تباہی کا مورد بن جاتا ہے۔مگر اُس کے بالمقابل نور اور روشنی سے بہرہ ور انسان اعلیٰ درجہ کی راحت اور عزت پاتا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۳۴) نابینائی کی دو قسمیں ہیں؛ ایک آنکھوں کی نابینائی ہے اور دوسری دل کی۔آنکھوں کی نابینائی کا اثر ایمان پر کچھ نہیں ہوتا مگر دل کی نابینائی کا اثر ایمان پر پڑتا ہے۔اس لئے یہ ضروری اور بہت ضروری ہے کہ ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ سے پورے تذلل اور انکسار کے ساتھ ہر وقت دُعا مانگتا ر ہے کہ وہ اُسے سچی معرفت اور حقیقی بصیرت اور بینائی عطا کرے اور شیطان کے وساوس سے محفوظ رکھے۔( رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحہ ۶۳) انسان تو اپنی جان کا بھی مالک نہیں چہ جائیکہ وہ دولت کا مالک ہو۔ایک چمچہ شربت کا مزہ نہیں پاسکتا