تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 84
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۴ سورة البقرة اگر چہ کئی بار اس میں پڑتا ہے۔شیرینی ہاتھوں کے ذریعہ سے منہ تک پہنچتی ہے لیکن ہاتھ شیرینی کا مزہ نہیں پا سکتے۔اسی طرح جس کو خدا نے حواس نہیں دیئے وہ ذریعہ بن کر بھی کچھ فائدہ نہیں اٹھاتا۔(یادداشتیں، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲۵) حیات مسیح کے لئے یہ کہنا کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لے جاتا ؟ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی * سے ناواقفی کو ظاہر کرتا ہے۔ہم تو سب سے زیادہ اس بات پر ایمان لاتے اور یقین کرتے ہیں کہ اَنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ (البقرة : ۱۰۷)۔اللہ تعالیٰ بے شک ہر بات پر قادر ہے اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ بے شک وہ جو کچھ چاہے کر سکتا ہے۔لیکن وہ ایسے امور سے پاک اور منزہ ہے جو اس کی صفات کا ملہ کے خلاف ہوں اور وہ ان باتوں کا دشمن ہے جو اس کے دین کے مخالف ہوں۔W (احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۶۵ ) اَوْ كَصَيْبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي W أَذَانِهِمْ مِنَ الصَّوَاعِقِ حَذَدَ الْمَوْتِ وَاللهُ مُحِيطٌ بِالْكَفِرِينَ۔یہ اس بڑے مینہ کی مانند ہے جس میں طرح طرح کی تاریکیاں ہوں اور رعد اور برق بھی ہو۔۔۔تاریکیوں سے مراد آزمائش اور ابتلاء کی تاریکیاں۔(سبز اشتہار، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۶۲) b يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُم مَّشَوْا فِيْهِ وَ إِذَا أَظْلَمَ b عَلَيْهِمْ قَامُوا وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَذَهَبَ بِسَبْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرة كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيْهِ وَ إِذَا أَظْلَمُ عَلَيْهِمْ قَامُوا منافقوں کا کام ہے مگر یہ لوگ قاموا میں داخل ہیں احتیاط سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتے۔تاریکی جب خدا کی طرف منسوب ہو تو دشمن کی آنکھ میں ابتلا کا موقع اس سے مُراد ہوتا ہے اور اس لئے اس کو غاسق اللہ کہتے ہیں۔(البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۴۳) إِنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر یعنی خداوہ قادر ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۱) یعنی خدا بڑا قادر ہے۔یہ پرستاروں کے لئے تسلی ہے کیونکہ اگر خدا عاجز ہو اور قادر نہ ہوتو ایسے خدا سے اس جگہ کتابت کی غلطی سے کوئی لفظ رہ گیا ہے۔مرتب